امریکہ کا وینزویلا کے تیل کو انڈیا میں ریفائن کروانے کا عندیہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو انڈیا کو ’ریفائننگ سپر پاور‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے وہ وینزویلا کے تیل کو مکیش امبانی کی ملکیت میں موجود ریلائنس انرجی کے جام نگر ریفائنری پلانٹ میں صاف (ریفائن) کرنے کے منصوبے پر بھی بات کریں گے۔

مارکو روبیو تین روزہ دورے پر ممبئی پہنچے، جو رواں سال ان کا انڈیا کا دوسرا سرکاری دورہ ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک تجارتی کشیدگی کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے کہا کہ اپنے ہم منصب ایس جے شنکر کے ساتھ ان کی ملاقات میں امریکہ سے انڈیا کی ممکنہ تیل خریداری پر بات ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا اور امریکہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) پر مذاکرات مکمل کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

اخبار دی ہندو کے ایڈیٹر سریش نمبتھ کے مطابق: ’روبیو کے دورہ ممبئی اور جام نگر، جس میں انہوں نے دہلی کا دورہ شامل نہیں کیا، کا واضح طور پر اقتصادی ایجنڈا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان کی تجاویز کو کس طرح قبول کیا جاتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں H-1B ویزا سے متعلق دھمکیوں، انڈیا کی روسی تیل درآمدات اور تاخیر کا شکار تجارتی معاہدے کے باعث کشیدگی دیکھی گئی ہے۔‘

توانائی، تجارت اور رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) کے موضوعات اس وقت زیر بحث آئے جب ایس جے شنکر نے ممبئی میں مارکو روبیو اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان کی میزبانی کی۔ انڈین وزیر خارجہ نے دونوں ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور بعد ازاں دونوں کے ساتھ مشترکہ اجلاس بھی منعقد کیا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ان معاملات پر سہ فریقی تعاون بھی زیر غور آیا۔

ایس جے شنکر نے اس سہ فریقی اجلاس کو ’توانائی، رابطہ کاری اور عصری پیش رفت پر آرا کے مفید تبادلے‘ سے تعبیر کیا۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے اس سہ فریقی اجلاس کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متحدہ عرب امارات کو توانائی کی برآمدات اور تجارت کے حوالے سے متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے، جن کی ایک وجہ ایران میں امریکی جنگ اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہے۔

انڈیا میں امریکی سفیر سرجیو گور نے سوشل میڈیا پر تینوں رہنماؤں کی ممبئی میں لی گئی مشترکہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’امریکہ، انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے پاس توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی اور علاقائی رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کے حقیقی مواقع موجود ہیں۔‘

انڈیا روسی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال اپریل میں شروع کی گئی ٹیرف جنگ نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈیا کے مالیاتی مرکز ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا: ’انڈیا نے بارہا اپنی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور یہ ایک دانش مندانہ قدم ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’یہ کام ایک دن سے دوسرے دن تک نہیں ہو سکتا، اس لیے میرے خیال میں انہوں نے اس حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے اور ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔‘

انڈیا امریکی تجارتی اقدامات سے محتاط ہے، جن میں وہ قانون بھی شامل ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے جس کے تحت ان مجوزہ پابندیوں سے استثنیٰ دے دیا گیا۔

روبیو نے آخری بار مئی میں انڈیا کا دورہ کیا تھا، جب انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔

اس بار ان کی مودی سے ملاقات طے نہیں، تاہم منگل کو انہوں نے اپنے انڈین ہم منصب وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے مذاکرات کیے اور وہ کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

روبیو نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ’توانائی کے تحفظ اور دفاعی تعاون‘ پر تبادلہ خیال کیا اور ساتھ ہی امریکہ اور انڈیا کے سٹریٹیجک شراکتی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

’چند معاملات باقی ہیں‘

امریکی وزیر خارجہ ریاست گجرات کے مغربی شہر جام نگر کا بھی دورہ کریں گے، جو ارب پتی صنعت کار مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کا مضبوط مرکز اور دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کا مقام ہے۔

دونوں ممالک فروری میں ایک عبوری تجارتی معاہدے پر پہنچے تھے جس کا مقصد انڈین مصنوعات پر امریکی ٹیرف میں کمی لانا تھا۔

تاہم چند روز بعد امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر عائد کردہ ٹیرف کالعدم قرار دے دیے، جس سے یہ غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی کہ یہ معاہدہ کب نافذ العمل ہوگا۔

اس کے بعد سے فریقین مسلسل مذاکرات کر رہے ہیں۔

انڈین وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اس ماہ کہا تھا کہ مذاکرات ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جہاں مزید ’دینا یا لینا انتہائی مشکل‘ ہو سکتا ہے۔

تاہم روبیو منگل کو زیادہ پرامید دکھائی دیے۔

انہوں نے کہا: ’ہم بہت، بہت قریب ہیں۔ میں کہوں گا کہ باضابطہ معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے جتنا قریب ہوا جا سکتا ہے، ہم اتنے قریب ہیں۔ میرے خیال میں صرف چند معاملات باقی رہ گئے ہیں جنہیں حتمی شکل دینا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’امید ہے کہ جلد ہی کوئی اچھی خبر سنانے کے قابل ہوں گے اور اس کے بعد شاید دونوں ممالک کے رہنما اس پر دستخط بھی کر سکیں گے۔‘

زراعت اب بھی انڈیا کے لیے ایک حساس شعبہ ہے کیونکہ نئی دہلی اپنے کسانوں کو مزید غیر ملکی مقابلے کے لیے کھولنے سے گریزاں ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن چاہتا ہے کہ انڈیا امریکی توانائی کی مزید مصنوعات خریدے۔

امریکہ کو انڈیا کی برآمدات اگست میں سالانہ بنیاد پر 21 فیصد بڑھ کر 8.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ ایک سال قبل اسی مہینے انڈیا کو 50 فیصد ٹیرف کا سامنا تھا۔

برآمدات میں یہ اضافہ انڈین معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوا ہے، جو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کی بلند قیمتوں سے متاثر رہی ہے۔

ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر زیادہ ٹیرف دوبارہ نافذ کیے گئے تو اس سے انڈیا کی معاشی نمو کے امکانات متاثر ہوں گے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچے گا اور پہلے سے کمزور انڈین روپے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *