انڈیا کے ’کاکروچ‘ مظاہرین نے ملک کے چیف الیکشن کمشنر کو 48 گھنٹے کے اندر مستعفی ہونے یا ملک گیر مظاہروں کا سامنا کرنے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)، جو خود پر طنزیہ مزاح کے نتیجے میں وجود میں آنے والا ’جین زی‘ کا پریشر گروپ ہے، نے حالیہ برسوں میں طلبہ کے سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں پر ان کے ماتحت عہدے داروں نے ان سے بار بار سوالات کیے تھے۔
اخبار دی انڈین ایکسپریس نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ دو الیکشن کمشنروں نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ سوالات اٹھائے یا تشویش کا اظہار کیا، جن کا زیادہ تر تعلق گذشتہ سال شروع ہونے والے ووٹر فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے عمل سے تھا۔
انڈیا کا الیکشن کمیشن ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے جو تین کمشنروں پر مشتمل ہے۔ گیانیش کمار ان تین الیکشن کمشنروں میں سے ایک ہیں اور کیوں کہ وہ سب سے سینیئر ہیں اس لیے وہ چیف ہیں۔
ووٹر لسٹوں میں تبدیلی سے متعلق رپورٹ نے اسیاسی ہنگامہ کھڑا کر دیا، اور اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر ایک نیا حملہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے ووٹر فہرستوں میں ہیر پھیر کی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ان دعووں کی تردید کی ہے۔ پینل نے کہا کہ مختلف آرا، تحریری نوٹس اور اندرونی جانچ پڑتال غور و خوض کا معمول کا حصہ تھے اور اس بات پر اصرار کیا کہ اس کے فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے تھے۔
ابھیجیت ڈپکے نے نئی دہلی میں ایک پریس بریفنگ میں کہا، ‘آزادانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے، سی ای سی گیانیش کمار کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اگر 48 گھنٹے کے اندر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے، تو کاکروچ جنتا پارٹی ملک گیر احتجاج شروع کرے گی۔ جب تک گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
ابھیجیت ڈپکے نے چیف الیکشن کمشنر کو سب سے بڑا ’ملک دشمن‘ اور انڈین جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’جب سے گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر بنے ہیں، حکومت یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ کسے ووٹ دینے کی اجازت ہو گی اور کسے نہیں؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ گیانیش کمار نے جمہوریت کے تصور کو ’الٹ‘ کر رکھ دیا ہے۔
ابھیجیت ڈپکے نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں 13 کروڑ ووٹ ختم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ختم کیے گئے ووٹوں کا مقصد حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان فرق کو بڑھانا تھا۔
مرکزی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے گیانیش کمار کی گرفتاری، انہیں عہدے سے ہٹانے، اور ان کے ماتحت کیے گئے تمام فیصلوں اور ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعے کو انڈیا بھر کے تمام ریاستی الیکشن دفاتر کے باہر احتجاجی مارچ کا اعلان کیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے حالیہ برسوں میں پینل کے طرز عمل پر تنقید کی ہے، اور یہ الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کروڑوں ووٹروں کے نام ختم کر دیے گئے اور بغیر تصدیق کے نئے ووٹرز شامل کیے گئے۔
بی جے پی نے الیکشن پینل کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مذموم مہم شروع کر دی ہے کیوں کہ وہ مسلسل انتخابات ہار رہی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے بدھ کو ایک میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ’نہ تو الیکشن کمیشن آف انڈیا اور نہ ہی انڈیا کا کوئی آئینی ادارہ آمرانہ حکمرانی کے تحت ہے۔ وہ جمہوری انداز میں کام کر رہے ہیں۔‘
سی جے پی نے جولائی میں نوجوانوں کے کامیاب مظاہرے کیے، جن کے نتیجے میں امتحانی پرچے لیک ہونے پر مسٹر مودی کے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا، جو 2014 میں ان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے انہیں ملنے والے سیاسی دھچکوں میں سے ایک ہے۔
سی جے پی، مودی کی بی جے پی پر ایک طنزیہ وار ہے اور اسے انڈیا کے چیف جسٹس، سوریا کانت کی جانب سے نوجوانوں کے بارے میں دیے گئے تضحیک آمیز ریمارکس کے جواب میں بنایا گیا تھا۔ تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کے تبصروں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
اس تحریک نے تقریباً دو ماہ میں انسٹاگرام پر 2.5 کروڑ سے زیادہ فالوورز حاصل کر لیے، اور ملک کی سب سے بڑی وائرل سنسنیشنز میں سے ایک بن گئی۔ تجزیہ کاروں نے اسے حالیہ برسوں میں مسٹر مودی کے اختیار کے لیے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
