اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پیر کو سیکٹر ایف 10 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے معاملے پر ہونے والے مظاہرے کے خلاف درج مقدمے میں گرفتار سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت 96 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پیر کو ملزموں کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
اس سے قبل اسلام آباد کے ایف-10 مرکز میں کشمیر کے حق میں 31 جولائی کو ہونے والے اس احتجاج کے بعد سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا، جنہیں بعد میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
گرفتار افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
اس حوالے پیر کو ہونے والی سماعت میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابو الحسنات نے تمام 96 ملزمان کی ضمانت پانچ، پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
سماعت کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے عمران شفیق ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ دیگر ملزمان کی جانب سے سردار مصروف، زاہد بشیر ڈار اور آمنہ علی نے وکالت کی۔
سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عدالت نے سماعت کے دوران سینیٹر مشتاق احمد خان، رضی طاہر اور دیگر ملزمان کی ضمانتیں منظور کیں۔
سماعت کے دوران جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے وکلا سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی کارروائی کے بارے میں استفسار کیا اور کہا: ’میں انتظار کر رہا تھا، دیر سے مت آیا کریں۔‘
پولیس نے کشمیر کے حوالے سے ہونے والے مظاہرے کے بعد اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج کیا تھا، جس میں دہشت گردی سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی تھیں۔
یہ مقدمہ سیکٹر ایف 10 میں ہونے والے اس مظاہرے کے خلاف درج کیا گیا تھا جس میں شرکا نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے معاملے پر احتجاج کیا تھا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 96 افراد کو گرفتار کیا، جن میں سینیٹر مشتاق احمد سمیت دیگر افراد شامل تھے۔
گرفتار افراد نے بعد از گرفتاری ضمانت کے لیے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کیا، جہاں آج عدالت نے تمام 96 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں۔
