انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اردو صحافت دم کیوں توڑ رہی ہے؟

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں صدیوں کی تاریخ رکھنے والی اردو صحافت خاموشی سے بحران کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل خبروں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان نے اخبارات کے روایتی قارئین کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج ڈیجیٹل قارئین کا دور ہے۔ لوگ آج کل موبائل فون پر ہی خبریں پڑھتے ہیں جس کی وجہ سے اردو اخبارات کو مشکلات کا سامنا ہے۔

گذشتہ کئی سال سے اردو اخبارات کے قارئین کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ ضلع بارہ مولہ سے تعلق رکھنے والے 80 سالہ ریٹائرڈ اردو لیکچرر محمد ابراہیم کمبے نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ کئی سال سے اردو صحافت کا زوال اس لیے شروع ہوا کیوں کہ اشتہارات کی شدید کمی ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’سوشل میڈیا کے بڑھتے رجحان نے اس پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ اردو صحافت نے کبھی ہندوؤں اور کبھی سکھوں کو مشترکہ مباحث میں جوڑا اور معاشرے کے محروم طبقات کو ایک آواز دی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تقسیم سے پہلے برصغیر میں اردو صحافت نے ایک نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اس کے زوال کی دوسری وجہ سرکاری لاپروائی ہے کیوں کہ حکومت کی جانب سے اسے فروغ دینے کے بجائے نظر انداز کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ جب کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اردو اساتذہ کی بھرتی نہ ہونے کے برابر ہو گی تو اردو صحافت کا کیا حال ہو گا؟ اس سے نہ صرف اردو صحافت بلکہ اردو زبان بھی ختم ہو جائے گی۔

تاریخ کے مطابق اس خطے میں اردو صحافت کی جڑیں 19 ویں اور 20 ویں صدی سے ملتی ہیں۔ اردو صحافت کی تاریخ میں ’رنبیر‘ نامی اخبار جموں و کشمیر کا پہلا اردو اخبار مانا جاتا ہے۔

 یہ ایک ہفتہ وار اخبار تھا جس کی بنیاد 24 جون 1924 کو جموں میں ملک راج صراف نے رکھی۔ جموں و کشمیر میں ملک راج صراف کو بابائے اردو صحافت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، انڈیا میں اردو اخبارات کی اشاعت میں تقریباً 25 فیصد تک کمی آئی ہے، جس کے باعث کئی اخبارات بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

اس صحافتی ورثے کو زندہ رکھنے کے لیے ان اخبارات کے مدیران اب سوشل میڈیا پر اردو ویب سائٹس بنا رہے ہیں اور اب انہی پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی خبروں کو وسیع تر قارئین تک پہنچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *