ماحولیاتی تبدیلیوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان اب پچیسویں گھنٹے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کے پچھلے چوبیس گھنٹوں کی تاریخ کیلنڈر کے صفحات پر صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔
معلوم تاریخ کو دیکھا جائے تو وادی سندھ کی تہذیب مہر گڑھ، موہن جو دڑو، ہڑپا اور گندھارا سے ہوتی ہوئی اب چوتھے مرحلے میں ہے، جسے آج کا پاکستان کہتے ہیں۔ اس کے پچھلے تینوں ادوار بھی کسی نہ کسی طرح موسمیاتی تبدیلیوں کی ہی زد میں آئے تھے، جن کی نشانیاں آج ہم کھنڈرات میں کھوجتے پھرتے ہیں۔
کیا تاریخ کا یہ چوتھا دور بھی اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے؟ اس سوال کا جواب مشکل نہیں ہے، لیکن ہم جن تبدیلیوں سے نبرد آزما ہیں وہ اتنی تیزی سے رونما ہو رہی ہیں کہ ہماری تیز تر زندگی بھی ان کے ساتھ بھاگتی چلی جا رہی ہے اور ہمیں یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ زمین ہمارے پاؤں کے نیچے سے مسلسل سرک رہی ہے۔
شفقت عزیز ملک کا شمار سینیئر صحافیوں میں ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں ان کے مطالعے کا خاص موضوع ہے۔ انہوں نے ایک ناول بھی لکھا ہے، جس کا عنوان ہے ’Before The Valley Drowns‘ جس میں انہوں نے موسمیاتی تناظر میں پاکستان کے سرکتے لمحوں کی کہانی بیان کی ہے۔ ناول کے سر ورق پر انہوں نے لکھا ہے:
’پہاڑ کبھی اچانک نہیں گرتا، وہ تو بس ریاست کے غافل رہنے کا انتظار کرتا ہے۔ بقا اور آفات سے مقابلے کی صلاحیت کنکریٹ سے نہیں حقائق کے ادراک سے ہوتی ہے۔‘
پاکستان آج کل مون سون کی بارشوں کی زد میں ہے۔ دریا، ندی نالے بپھرے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا ایسی ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے جن میں شمال کے پہاڑوں سے جنوب کے میدانوں تک لوگوں کے مکان اور کھیت دریا برد ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب خلائی سائنس کا قومی ادارہ سپارکو ’Space for Climate‘ کے نام سے سیٹلائٹ کے ذریعے پاکستانی دریاؤں پر مسلسل نظر رکھ رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس انسانی المیے کی ذمہ دار قدرت کم اور انسان زیادہ ہیں۔ پاکستان کے تمام بڑے دریاؤں کو انسانی لالچ نگل رہی ہے۔ ان کا پاٹ مسلسل تنگ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بعض علاقے تو ایسے ہیں جہاں انسانی آبادیاں دریاؤں کے اندر تک پھیل چکی ہیں جہاں کبھی پانی بہتا تھا وہاں اب کنکریٹ کے جنگل ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا جہلم، چناب، راوی، ستلج اور کابل مسلسل اپنے راستے بدل رہے ہیں۔ 1978, 1988, 1992, 1997, 2010, 2022 اور 2025 میں آنے والے سیلابوں نے کئی مقامات پر دریائی راستے بدل ڈالے ہیں۔ بالخصوص سیٹلائٹ کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ دریائے سندھ نے سکھر سے کوٹری بیراج کے درمیان اپنے بہاؤ میں نمایاں تبدیلی کی ہے، جس سے کئی دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور ان کے باسیوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔
دوسری جانب شہر پھیلتے پھیلتے دریائی راستوں پر حاوی ہو چکے ہیں۔ دریا کے سیلابی اور دلدلی علاقے جو اضافی پانی کے لیے بفر زون کا کردار ادا کرتے تھے ان کے اندر اب شہری آبادیاں قائم ہو چکی ہیں۔
خلائی شواہد کو دیکھتے ہی یہ ہولناک تصویر سامنے آتی ہے کہ دریا کا پاٹ جو کچھ سال پہلے کئی ہزار میٹرز پر پھیلا ہوا تھا وہ اب سکڑ کر چند سو میٹر رہ گیا ہے۔ بظاہر سکڑے دریا جب ان تنگ راستوں سے نکلتے ہیں تو مزید بپھر جاتے ہیں جس سے ان کے کٹاؤ کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔
دریائے نیلم جسے مظفر آباد نگل رہا ہے
دریائے نیلم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے بیچ میں بہتا ہے۔ شہر میں وہ مقام جہاں سے ایک معاون نالا دریائے نیلم میں داخل ہوتا ہے وہاں پر گذشتہ سالوں میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ سپارکو کے سیٹلائٹ مشاہدے کے مطابق 2002 اور 2023 کی سیٹلائٹ تصاویر کا باہمی تقابل کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر دریا کی معاون ندی کافی سکڑ چکی ہے۔ جس سے شدید موسمیاتی حالات اور سیلابوں کے نتیجے میں ہولناک تباہی کا راستہ کھل چکا ہے۔
مظفر آباد انتظامیہ نے ان ندی نالوں کے اندر آبادیوں کو روکنے کے لیے بظاہر کچھ نہیں کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے ’نو بلڈ زون‘ بنائے جائیں، جہاں کسی صورت تعمیرات کی اجازت نہ ہو۔
گلگت بھی ناجائز تجاوزات کی زد میں
گوگل کے 2013 کے سیٹلائٹ امیج کا تقابل جب سپارکو نے 2023 کے عکس سے کیا تو معلوم ہوا کہ گلگت شہر میں ایک قدرتی نالا جو دس سال پہلے بالکل واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا تب یہاں ایک بھی مکان نہیں تھا لیکن دس سال بعد 2023 میں یہاں پر ایک نہیں سینکڑوں مکانات بن چکے ہیں۔
اس نالے کے اوپر پہاڑوں میں اگر کوئی بادل یا گلیشیئر پھٹ گیا تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کتنا مالی اور جانی نقصان ہو گا۔ تب کس کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا؟
بحرین میں دریا نے ناجائز تجاوزات اڑا کر رکھ دیں
پاکستان کے شمالی علاقوں میں گذشتہ کئی سالوں سے سیاحت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئے نئے ہوٹل بن رہے ہیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ان سرگرمیوں کا براہ راست نشانہ پانی کے قدرتی راستے بن رہے ہیں۔
بحرین کے مقام پر 2010 کی سیٹلائٹ تصاویر کا جب 2022 کی تصاویر سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دریائے سوات کے کناروں پر ہونے والی تعمیرات سے دریا میں گرنے والے ایک واٹر چینل کا راستہ تنگ ہو گیا ہے۔
یہی وجہ ہے جب 2022 میں یہاں سیلاب آیا تھا تو یہاں لوگوں کے مکانات اور ہوٹل پانی میں بہہ گئے تھے۔ یہاں بھی صوبائی حکومت دریائی راستوں کو بچانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔
راوی جو اب راوی نہیں رہا
پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کی آبادی گذشتہ 25 سالوں کے اندر 57 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ دریائے راوی نے بھگتا ہے۔
سپارکو کا کہنا ہے کہ جب ہم 1990 کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ 2025 سے کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شہر اب دریائے راوی کے فعال سیلابی علاقے کے اندر تک پھیل چکا ہے۔
1990 تک ہونے والی شہری تعمیرات دریائی راستے سے ہٹ کر تھیں۔ دریا کے ارد گرد کا علاقہ زرعی اراضی پر مشتمل تھا۔ دریائے راوی ایک وسیع علاقے کو سمیٹے ہوئے تھا لیکن موجودہ تصاویر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سینکڑوں ہزاروں ایکڑ کا دریائی رقبہ اب تعمیرات کے نیچے غائب ہو چکا ہے۔ اس لیے گذشتہ سال سیلابی پانی آبادیوں کے اندر گھس گیا تھا۔ مستقبل میں بھی ایسے واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہونے کا خطرہ ہے۔
حیدرآباد کے لیے خطرہ بڑھ چکا
دریائے سندھ کے ایک طرف حیدر آباد اور دوسری جانب کوٹری واقع ہیں۔ حیدر آباد، کراچی کے بعد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
سپارکو کے مطابق حیدر آباد شہر کا ایک بڑا علاقہ جہاں 2005 تک دریا کے ساتھ کھیت تھے جو سیلابی پانی کے اخراج کا ذریعہ بھی بنتے تھے۔ 2005 تک یہاں کوئی مکان نظر نہیں آتا، کیونکہ دریا اس سے پہلے چوڑا ہے اور اس مقام پر تنگ ہو جاتا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب دریا میں پانی چڑھتا تھا تو اس علاقے میں پھیل جاتا تھا۔
لیکن 2025 کی سیٹلائٹ تصاویر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اب اس مقام پر نصف سے زیادہ رقبے پر آبادیاں بن چکی ہیں جو تیزی سے دریا کے جانب پھیل رہی ہیں۔ شہر اور دریا کے بیچ جو قدرتی بفر زون تھا، وہ اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اس لیے اب جو سیلاب آئے گا اس کا نشانہ صرف کھیت نہیں ہوں گے بلکہ وہ آبادیاں بھی ہوں گی جو اس کے بفر زون میں بن رہی ہیں۔
لاڑکانہ کے قریب دریا نے بھی پھن پھیلا دیا
لاڑکانہ میں صورت حال مختلف ہے یہاں دریا کے کنارے آبادیاں تو نہیں بنیں لیکن یہاں دریا کے مسلسل کٹاؤ کی وجہ سے2000 ہیکٹر زمین متاثر ہوئی ہے۔ دریا نے اپنا راستہ 1990 کے بعد گذشتہ 35 سالوں میں خاصا بدلا ہے۔ یہاں پر 1600 ہیکٹر پر نئے کھیت بنے ہیں جو اس سے پہلے موجود نہیں تھے جس سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ دریا میں جب زیادہ پانی آئے گا تو قریبی بند ٹوٹ سکتا ہے، جس سے وسیع زرعی اور شہری علاقہ زیر آب آ جائے گا۔
سپارکو کے مطابق سندھ انتظامیہ نے اگر یہاں پر خاص توجہ مرکوز نہ کی تو یہاں کسی بڑی قدرتی آفت کا جنم ہو سکتا ہے۔
زیریں سندھ میں دریائی بہاؤ میں تبدیلیاں
سندھ کے زیریں علاقے میں ایک مقام ایسا بھی جس میں سپارکو نے مشاہدہ کیا ہے کہ یہاں گذشتہ 35 سالوں کے اندر دریا کے بہاؤ کے مقام میں ساڑھے چار کلومیٹر تبدیلی آئی ہے۔ یہ تبدیلی اس ضرورت کو واضح کرتی ہے کہ کیوں کر دریاؤں پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ دریا جب راستہ بدلتا ہے تو قدرتی پشتے براہ راست زد میں آتے ہیں، جن کی تباہی سے ہولناک المیہ جنم لیتا ہے۔ پانی آبادیوں اور کھیتوں کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔
راولپنڈی اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟
راولپنڈی اور اسلام آباد اگرچہ کسی بڑے دریا کے کناروں پر تو آباد نہیں لیکن مری اور کہوٹہ کی پہاڑیوں سے نکلنے والے چھوٹے ندی نالے ان شہروں کے بیچوں بیچ بہہ رہے ہیں۔ کبھی ان میں پانی زیادہ بہتا ہو گا اس لیے ان کو آج بھی دریا کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے جن میں سے ایک دریائے کورنگ ہے اور دوسرا دریائے سواں۔
سپارکو نے تو اپنے تجزیے میں بڑے دریاؤں کا ڈیٹا ہی دیا ہے تاہم یہاں پر گوگل میپس کی مدد سے ماضی کے سیٹلائٹ نقشوں کا تقابل اگر موجودہ سال سے کیا جائے تو گذشتہ 25 سالوں میں حیران کن تبدیلی نظر آتی ہے۔ بظاہر ان چھوٹے ندی نالوں کا پاٹ ماضی میں کافی وسیع تھا۔ اس لیے یہ نئی بننے والی ہاؤسنگ سکیموں کے لیے تر نوالہ ثابت ہوئے۔
انہوں نے یہاں پر قبضے کیے اور پلاٹ بنا کر بیچ دیے، جس کی وجہ سے ہر سال برسات کے موسم میں پانی نئی بننے والی آبادیوں میں داخل ہو جاتا ہے جو مانی و مالی نقصان کا باعث بنتا ہے۔
واپس شفقت عزیز ملک کے ناول کی طرف آتے ہیں جس میں قدرتی آفات سے تباہی کی ذمہ داری قدرت پر نہیں بلکہ انسانی غفلت پر ڈالی گئی ہے۔
سپارکو کا ڈیٹا بھی یہی بتاتا ہے کہ انسانی لالچ اور غفلت مل کر ایک انسانی المیے کو جنم دے رہی ہیں۔
