انڈین کشمیر میں آرٹیکل 370 کی بحالی مہم

سات سال کی خاموشی کے بعد انڈیا کے زیر انتظام وادی کشمیر میں اچانک اندرونی خود مختاری کو بحال کرنے کی مہم تیز ہوتی جا رہی ہے۔

پانچ اگست کو دہلی سے سری نگر تک درجنوں احتجاجی جلسے جلوس یا سیمینار منعقد کیے گئے جن میں مقامی جماعتوں کے ساتھ پارلیمان میں اپوزیشن اتحاد کے سرکردہ رہنماؤں نے حصہ لیا اور جموں و کشمیر کے سیاسی اور معاشی اختیارات کی بحالی کی بھر پور حمایت کی۔

جس سیاسی جماعت نے آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ووٹ مانگے اور عوام نے اُسے کامیابی دلائی، وہ اندرونی خود مختاری کی بحالی کی بجائے ریاستی درجہ بحال کرنے پر اصرار کرتی رہی۔

ایک جانب حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے باغی رکن پارلیمان آغا روح اللہ نے پارلیمان کے آئینی سینٹر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں ملک کے بیشتر دانش ور، سیاست دان، اپوزیشن اتحاد کے اراکین اور چند کشمیری نوجوانوں کو شرکت کرنے کا موقع دیا گیا۔

دوسری جانب عوامی اتحاد پارٹی کے محبوس رکن پارلیمان انجینیئر رشید نے پانچ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا اور پارلیمان میں سیاہ پٹی باندھے اور ننگے پاؤں جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے سری نگر میں کینڈل لائٹ احتجاجی دھرنا دے دیا اور مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ بی جے پی نے جہاں رام مندر کے اثاثوں کو لُوٹا، وہیں جموں و کشمیر کے اختیارات کو پامال کر کے یہاں کے عوام کو لُوٹا ہے، جو اسے واپس کرنا ہو گا۔

جموں و کشمیر کی دوسری چھوٹی پارٹیوں نے بھی پانچ اگست کو علاقے میں احتجاجی تحریکیں شروع کیں مگر عوام کے ایک بڑے طبقے پر اس کا ذرا بھی اثر نہیں دیکھا گیا، جو ان تمام جماعتوں سے متحد ہو کر مرکزی حکومت سے اپنے اختیارات حاصل کرنے پر زور ڈالتے رہے ہیں۔

مرکزی حکومت کے سخت قوانین، دباؤ اور خوف کے باعث عوامی اور سیاسی جماعتوں نے اب تک جموں و کشمیر میں خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔

دہلی میں نوجوانوں کی کاکروچ تحریک کے بعد سیاسی جماعتوں نے موقع غنیمت جان کر الگ الگ احتجاج شروع کیا لیکن سب کی نظریں آغا روح اللہ پر تھیں کہ کیا انہیں دہلی میں اندرونی خود مختاری بحال کرنے کے مطالبے پر سیمینار کرنے کی اجازت دی جائے گی، جیسے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی ریاستی درجہ بحال کرنے کی تحریک کو جنتر منتر پر روک دیا گیا تھا۔

آغا روح اللہ کے سیمینار میں سراغ رساں ادارے را کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے شرکت کر کے آرٹیکل 370 کی افادیت اور اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو دی جانے والی اندرونی خود مختاری کو کانگریس سرکار نے پہلے کھوکھلا کر دیا تھا اور شیخ عبداللہ نے 70 کی دہائی میں اندرا عبداللہ سمجھوتے کے بعد اس پر مہر لگا دی تھی۔

یہ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ مرکزی سرکار کی کشمیر مخالف پالیسیوں پر انڈیا کی سول سوسائٹیز سوال اٹھانے کی بجائے کشمیریوں کو اسے قبول کرنے پر راغب کرتی رہی ہیں، جس کی مثال ان بے شمار پروگراموں سے ملتی ہیں، جنہیں کشمیر کے اطراف و اکناف میں آج بھی منعقد کیا جاتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیشنل کانفرنس کے ساتھ اپنے بگڑتے مراسم کا اظہار کر کے آغا روح اللہ نے عمر عبداللہ کی سربراہی میں پارٹی لیڈرشپ پر الزام عائد کیا کہ وہ منشور کو بھول کر بی جے پی کی خوشنودی میں لگی ہوئی ہے جبکہ عوام نے بڑا مینڈیٹ دے کر پارٹی پر بھروسہ کیا تھا جو اس نے توڑ دیا ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی نیشنل کانفرنس کو توڑنے میں سر جوڑ کے بیٹھی ہے تاکہ اس تاریخی پارٹی کی روایتی تحریک، کردار اور مطالبے کو اسی طرح دفن کیا جائے جس طرح آزادی کی تحریک کو زمین بوس کر دیا گیا ہے حالانکہ نیشنل کانفرنس کے بانی رہنما شیخ عبداللہ نے دو قومی نظریے کو مسترد کر کے انڈیا کے ساتھ الحاق کی حمایت کر دی تھی اور اب اسی رہنما کے نام تک کو تاریخی نصاب سے ہٹایا جا رہا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اب ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی برسی سرکاری سطح پر منائی جاتی ہے، جن کے خلاف خطے میں سیاسی تحریک کے نتیجے میں بٹوارے کے بعد انہیں ریاست بدر کیا گیا تھا جبکہ شیخ عبداللہ کی برسی پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ مقامی سرکار بھلے ہی نیشنل کانفرنس کی ہو حکم بس دہلی کا ہی چلتا ہے۔

کشمیر میں خوف اور ڈر کا ماحول بدستور قائم ہے جہاں ایک جانب خطے میں قومی اور عالمی پروگرام منعقد کر کے نارملسی کا پیغام دیا جاتا ہے، دوسری جانب اموات کی اِکا دُکا وارداتوں کے بعد پوری بستیاں کریک ڈاؤن میں رکھی جاتیں ہیں اور گراؤنڈ ورکرز کا لیبل لگا کر ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور دہشت گردی کی پاداش میں نوکریوں سے برخاست کیا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں سیاسی جماعتیں اپنی الگ الگ دکانیں چمکانے کی دوڑ میں ہیں اور عوام کو بہلانے کے لیے کوئی آٹو رکشا میں بیٹھ کر ٹھگتا ہے تو کوئی موم بتی جلا کر یا کوئی سیمینار کر کے۔

مگر عوام کے بڑے طبقے کے اندر غصے کا ایک لاوا پک رہا ہے جو نہ جانے کس نئے طوفان کی شکل میں ابھرے گا اور بے یقینی، بے چینی اور بے اعتباری کی اس فضا کو کنٹرول کر پائے گا یا نہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *