سعودی فوج اور حکومت کے قریبی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان جمعے کو جدہ میں مشترکہ دفاع کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔
علاقائی طاقتیں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے تناظر میں سکیورٹی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس جنگ نے خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے جہاز رانی کو متاثر کیا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سورس نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس پر طویل عرصے سے بات چیت جاری تھی لیکن خطے کی تازہ ترین پیش رفت نے اسے تیز کر دیا ہے۔‘
سعودی حکومت کے قریب ایک اور ذریعے نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ معاہدے پر جمعے کو دستخط ہوں گے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جدہ میں ترک صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ہفتے تک جاری رہنے والے دورے کے لیے جمعرات کو سعودی عرب پہنچے، جب کہ طیب اردوغان کی جمعے کو آمد متوقع ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ چھ سے آٹھ اگست تک ہو رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو کہا: ’اگرچہ یہ دورہ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہو رہا ہے، لیکن اس دورے کی اہمیت فوری بحران اور قلیل مدتی تحفظات سے کہیں زیادہ ہے۔‘
یہ تینوں ممالک مہینوں سے ایک ممکنہ سٹریٹیجک اتحاد کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ثالثی کی ہے، جب کہ ترکی نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے مقصد سے ہونے والے مذاکرات میں سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان نے 2025 میں پہلے ہی ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کا اعلان کیا تھا، اس اقدام نے اس لیے توجہ حاصل کی کیوں کہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی ریاست ہے۔
اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ کسی ایک ملک پر ہونے والا حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
