’ہمارا پہلا قدم ہے‘ دولت مشترکہ گیمز میں تمغہ جینے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر

پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نیوزی لینڈ کی جارڈن ولسن کے خلاف کوارٹر فائنل میں پوائنٹس پر متفقہ فتح کے ساتھ 60 کلوگرام کے سیمی فائنل میں باآسانی پہنچنے کے بعد دولت مشترکہ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پاکستان کی پہلی خاتون باکسر بن گئیں۔

گلاسگو میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں 22 سالہ باکسر فاطمہ زہرا نے منگل کو کوارٹر فائنل میں ولسن کو 0-5 سے پچھاڑا جس میں پانچوں ججوں نے مقابلے کا فیصلہ ان کے حق میں دیا تاکہ مقابلے کے فارمیٹ کے تحت ان کا کم از کم کانسی کا تمغہ یقینی ہو سکے، جہاں سیمی فائنل ہارنے والوں کو بھی کانسی کا تمغہ ملتا ہے۔ انہیں جمعے کو 60 کلو گرام کیٹگری کے باکسنگ سیمی فائنل میں کینیڈا کی میری ال مہدیہ کے خلاف شکست ہوئی۔

پاکستان کی خواتین باکسنگ ٹیم نے 2016 میں ہی بین الاقوامی سطح پر قدم رکھا تھا۔ فاطمہ زہرا نے اپنی شاندار فتح کے بعد کہا، ’ہم باکسنگ میں ترقی کر رہے ہیں، لیکن یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔‘

’یہ ہمارا پہلا قدم ہے۔ ہم گولڈ میڈل کی بھی امید کر رہے ہیں، اور یہ تمغہ پاکستان کی باکسنگ کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہو گا۔‘

فاطمہ زہرا نے کوارٹر فائنل کے شروع ہی سے تین راؤنڈ کے مقابلے کو کنٹرول میں رکھا، اور ایک بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے چار ججوں کے سکور کارڈز پر 28-29 اور پانچویں پر 27-30 سے کامیابی حاصل کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فاطمہ زہرا کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ ان کی بڑی بہن دعا زہرا بھی باکسر اور قومی چیمپیئن ہیں۔

انہوں نے نے 2018 میں باکسنگ شروع کی اور بعد میں قومی سطح پر مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ 60 کلوگرام کیٹیگری میں پاکستان کی نمایاں باکسرز میں شمار ہوتی ہیں۔

ان کے کوچ راحیل عدنان کے مطابق فاطمہ سخت محنت کرنے والی کھلاڑی ہیں اور روزانہ کئی گھنٹے تربیت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب سہولیات اور وسائل فراہم کیے جائیں تو فاطمہ بین الاقوامی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *