مطالعہ پاکستان کی کتابوں کا ایک باب پڑھایا جاتا تھا جس میں طالبہ کو یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ ملک ایک فلاحی اسلامی ریاست ہے۔ اس کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم ایک جنت نظیر معاشرے میں رہ رہے ہیں۔
لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو ایسا لگا کہ جمہوریت، فلاح، آئین اور اسلام شاید کتابوں کی حد تک محدود ہے۔ ملک میں حالات برعکس نکلے۔ وہ جو ہم تاریخ یاد کر کے سوالوں کے جواب دیا کرتے تھے وہ سارے واقعات نظروں کے سامنے ہو رہے تھے ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی تھی۔
ملک کی تاریخ دیکھیں تو ہر دور میں ایک فرد واحد کے لیے قانون میں ترمیم کر دی جاتی ہے۔ ہماری قوم شخصیت پرستی کا شکار ہے۔ ہر آنے والا بہت اچھا اور جانے والا برا کہلاتا ہے۔ چڑھتے سورج کی پوجا عام ہے۔ ہر ایک دہائی بعد ایک نیا ہیرو ایک نیا نعرہ ایک نیا وعدہ جو کبھی ایفا نہیں ہوتا۔
طویل آمریت نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے نہیں دیا۔ اب رہنما سکول کالج مباحثوں اور جلسوں سے جنم نہیں لیتے کیونکہ طلبا سیاست اور ٹریڈ یونین پر پابندی ہے۔ اب سیاست دان موروثی طور پر جنم لیتے ہیں۔ اگر کسی کے نام کے ساتھ سیاسی خاندان کا نام ہے اور اس کے پاس دنیا کے ہر براعظم میں دولت ہے تو یہاں حکمرانی کے اہل ہیں۔ یہاں پر اکثر حکمران آمرانہ نرسریوں میں پرورش پاتے ہیں۔ جس طرح سے بنگلہ دیش میں نوجوان لیڈر عام عوام سے ابھر کر آئے جیسے انڈیا میں لیڈر کاکروچ پارٹی میں سامنے آئے ویسے رہنما پاکستان میں کیوں سامنے نہیں آ رہے؟
پاکستان میں جمہوریت کو فیملی لمیٹڈ کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔ ایک ہی سیاسی خاندان وفاق میں بھی عہدے رکھے گا اور صوبے میں بھی بااختیار ہو گا۔ باپ، بیٹی، بھائی، سمدھی، داماد، ماموں زاد بھائی، چچا زاد بھائی، بھانجا، بھتیجا، بہو کے بعد اگر کوئی اہم عہدہ بچے گا تو ہی کسی سینیئر کو پارٹی میں نصیب ہو گا۔ بعض اوقات سیاسی خانوادوں کے ملازمین کی قسمت بھی کھل جاتی ہے۔ امیر سیاسی خاندان کے چشم و چراغ کی معاونت کے لیے ان کو بھی چھوٹی کرسی دے دی جاتی ہے تاکہ وہ سر اور میڈم کے ساتھ رہیں۔ بیگ اٹھانے، پانی دینے اور انگریزی میں تقریر اور ٹوئٹ لکھنے میں آسانی رہے۔
ایسے ماحول میں ایک عام پڑھا لکھا نوجوان کیسے سیاست کا حصہ بن سکتا ہے؟ ایک ایسا نوجوان جو جین زی ہے، ناں کہنے کی ہمت رکھتا ہے اپنا نظریہ بیان کرنے سے نہیں کتراتا۔ جیل سے نہیں ڈرتا اس لیے موجودہ نظام میں اس کی جگہ ہی نہیں۔
پاکستان کے عام انتخابات میں نئی نسل نے بھی ووٹ بھی دیے اور کئی نے تو الیکشن بھی لڑا لیکن ان کو فارم 45 اور 47 میں الجھا کر اسمبلیوں میں نہیں جانے دیا گیا۔ اپوزیشن بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزام لگاتی رہی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ایک آئینی ترمیم نے کورٹ سے سپریم کو الگ کر دیا۔
سیاسی اسیر تین تین سال سے قید میں ہیں۔ جن میں 73 سالہ بزرگ یاسمین راشد بھی ہیں۔ پر ان سیاسی اسیران کے مقدمات میں انصاف دور دور تک نظر نہیں آ رہا۔ بلوچستان کی مائیں بہنیں اسلام آباد میں بارش تلے بیٹھی رہیں کسی نے ان کے سر پر دست
شفقت نہیں رکھا۔ ہاں ماہ رنگ بلوچ ضرور جیل میں ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لوگ اپنے مطالبات کے لیے باہر آئے ان کا نیٹ بند کر دیا گیا اور جگہ جگہ ناکہ بندی کر دی گئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایسے مشورے اشرافیہ کو کون دیتا ہے کہ آنکھیں بند کر لینے سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ تحریک انصاف کے احتجاج میں ایک شخص کنٹینر پر نماز پڑھ رہا تھا اس کو سکیورٹی اہلکاروں نے نیچے پھینک دیا۔ لاہور میں نوجوان خاتون نے احتجاج کرتے ہوئے اپنا دوپٹہ اہلکاروں کی طرف پھینکا بجائے وہ احترام میں پیچھے ہٹ جاتے انہوں نے اس کو بالوں سے پکڑ کر گرفتار کیا اور پھر وہ ایک سال جیل میں رہی۔
دوسری طرف انڈیا کی ایک نوجوان لڑکی پولیس وین کے آگے کھڑی ہوگئی کیونکہ اس کو پتہ تھا اس کے ملک میں جمہوریت ہے اس کو کچلا نہیں جائے گا۔ اس ہی احتجاج میں پولیس کے ایک اہلکار نے طلبا کی طرف اے کے 47 کی تھی اس کے خلاف انکوائری شروع ہو گی ہے۔
دوسری طرف ہم ظل شاہ، انیس ستی کے لیے انصاف کی بات تک نہیں کر سکتے۔ ہمارا آئینی اور انسانی حقوق کا چارٹر ہمیں احتجاج، آزادی رائے اور اختلاف کا حق دیتا ہے۔ پر موجودہ تین چار سال سے جو کوئی احتجاج کرے، اختلاف کرے یا تنقیدی ٹویٹ کرے اس پر کیس بن جاتا ہے۔
اس سے پہلے بھی حالات کوئی بہت اچھے نہیں تھے لیکن ایسا دور شاید ہی پہلے کسی نے دیکھا ہو۔ لوگوں کے حق کے لیے لڑنے والی وکیل ایمان مزاری جیل میں ہے۔ سابق وزیر اعظم کئی ماہ سے اپنے خاندان سے مل نہیں پائے۔ عمران خان کے قریبی ساتھی جیل میں ہیں۔
سب کچھ فتح کرنے کے باوجود کچھ بھی فرق کیوں نہیں پڑا۔ پاکستان میں مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہے، پیٹرول کی قیمت کا تعین روز ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کو مکمل طور پر دیوار سے لگانے کے باوجود ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔ کیا ہائبرڈ سٹیٹ فائدہ مند ہے میرا خیال میں اشرافیہ کے لیے تو یقینا ہے۔ پر عوام، انسانی حقوق، معاشرے، جمہوریت، انصاف، آزادی رائے کے لیے اس میں کچھ نہیں رکھا۔
وہ اسلامی فلاحی جمہوری ریاست کہاں گئی جس کے بارے میں ہمیں کتابوں میں پڑھایا گیا تھا۔ کیا ہمارا مقابلہ شمالی کوریا، افغانستان، شام اور میانمار سے ہے؟
حال ہی میں پاکستان نے عالمی سطح پر بہت داد سمیٹی، سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا لیکن اس کے ثمرات پاکستان کے عوام تک کیوں نہیں آ رہے۔ اس کی وجہ جمہوری آمریت ہے جب سیاسی اختلاف پر پابندی ہو، تنقید پر پیکا کا اطلاق ہو جائے، سیاسی مخالفین جیل میں ہوں، احتجاج کرنے والو کو مارا جائے، میڈیا سنسر شپ کا شکار ہو، قانون کی بالا دستی نہ ہو وہاں عوام بدحال ہی ہوتے ہیں۔
جہاں سیاسی حقوق، جمہوری جدوجہد اور شخصی آزادی نہ ہو وہاں انقلاب نہیں آتے۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے لیڈر مصطفی نواز کھوکھر نے ایک بہت اہم بات کی کہ جس ملک میں مختلف قومیں بستی ہو وہاں ہارڈ سٹیٹ کی تھیوری نہیں چل سکتی۔ یہ تھیوری پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان دے رہی ہے ہم چین مصر یا شمالی کوریا نہیں۔
یہ ہارڈ سٹیٹ کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ جِس خِطہ میں مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والے لوگ ہوں وہاں ہارڈ سٹیٹ نہیں بنا کرتے۔ ہم مصر و چین نہیں اور نہ ہی شمالی کوریا۔ یہاں صرف ایک دوسرے سے تعاون کی بنیاد پر ہی ریاست چل سکتی ہے اور افراد اور قوموں کے…
— Mustafa Nawaz Khokhar (@mustafa_nawazk) July 28, 2026
کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا لہو لہان ہیں۔ ہمیں ہارڈ نہیں ایک آئینی جمہوری ریاست کی ضرورت ہے جو موروثیت سے پاک ہو۔ جو کرپشن سے پاک ہو۔ جہاں امیر غریب کے لیے انصاف کا پیمانہ ایک ہو۔ جہاں ان نوجوانوں کو سیاسی عمل میں شمولیت دی جائے جو اپنی قابلیت کی وجہ سے اس کے اہل ہیں۔ اس کے ساتھ طلبا یونین کو بحال کیا جائے اور نوجوانوں کے لکھنے بولنے پر پابندی نہ لگائی جائے۔ ہم 23 کروڑ سے زیادہ ہیں۔ آپ سب پر پابندی لگا سکتے ہیں نہ ہی سب کی زباں بندی کر سکتے ہیں۔
زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو
گولی چلا دینا، کیس بنا دینا، مخالف کے گھر ریڈ کرا دینا، اس کو جیل میں بند کرا دینا۔ ہم کیوں ہارڈ سٹیٹ بن رہے ہیں جبکہ خواب تو اسلامی فلاحی جمہوری ریاست کا تھا۔
