کرکٹ کی دنیا میں شاید منگل اس وقت سب سے بڑا اپ سیٹ ہونے ہی والا تھا جب ایشین گیمز سے قبل جاپان اور انڈیا کے درمیان واحد ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا گیا۔
انڈیا نے جاپان جیسی انتہائی ناتجربہ کار ٹیم کے خلاف میچ صرف 2 رنز سے جیتا مگر عالمی چیمپیئن سے صرف دو رنز سے ہارنا جاپان کے لیے جیت جیسا ہی ہے۔
سوزوکی کپ کے نام سے یہ واحد ٹی ٹوئنٹی میچ سانو میں کھیلا گیا جہاں بارش کے باعث گیلی آؤٹ فیلڈ کے باعث میچ تاخیر سے شروع ہوا۔
صرف پانچ، پانچ اوور کے اس میچ میں انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 32 رنز ہی بنائے۔ حال ہی میں تیز ترین سینچری سکور کرنے والے ابھیشیک شرما پہلے ہی اوور میں صفر پر پویلین لوٹ گئے۔
ان کے علاوہ سنجو سیمسن 9 اور ایشان کشن بھی صرف تین رنز بنا کر ہی آؤٹ ہو گئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ اس سپننگ وکٹ پر شاید جاپان بھی کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا پائے مگر ایسا نہیں ہوا اور جاپان کے بلے باز میچ کو آخری اوور میں لے گئے جہاں انہیں جیتنے کے لیے صرف آٹھ رنز درکار تھے۔
مگر جاپان کے ناتجرنہ کار بلے باز انڈین بولر اکشر پٹیل کے تجربے کے آگے یہ آٹھ رنز سکور کرنے میں ناکام رہے۔
اس طرح انڈیا کو اس واحد ٹی ٹوئنٹی میچ میں صرف دو رنز سے جیت تو حاصل ہو گئی مگر انہی میدانوں پر ہونے والی ایشین گیمز میں ان کی آئندہ کی کارکردگی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔
