میں نے اردو پاکستان میں نہیں سیکھی بلکہ مدینہ منورہ میں سیکھی۔ بظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن میری زندگی کی ایک بڑی حقیقت اسی ایک جملے میں سمٹ آتی ہے۔
میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں گھر کی روزمرہ زبان عربی تھی جبکہ خاندان کے اندر پنجابی بولی جاتی تھی۔ اردو نہ ہمارے نصاب کا حصہ تھی، نہ سکول کی دین تھی اور نہ ہی کسی استاد کی عطا۔ وہ ہر صبح ہمارے گھر ایک اخبار کی صورت میں آتی تھی اور اس اخبار کا نام تھا ’اردو نیوز‘۔
مجھے آج بھی وہ منظر پوری طرح یاد ہے۔ میری والدہ میرے پہلو میں بیٹھتیں، اخبار کھولتیں اور نہایت شفقت، صبر اور محبت سے مجھے ایک ایک لفظ پڑھاتیں۔ میں ہجے جوڑتا، لفظ بنتا، جملہ مکمل ہوتا اور یوں ایک نئی دنیا میرے سامنے کھلتی چلی جاتی۔ اس وقت مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ میں صرف ایک زبان نہیں سیکھ رہا بلکہ اپنی شناخت کے ایک ایسے حصے سے آشنا ہو رہا ہوں جو آنے والے برسوں میں میری شخصیت اور میرے پیشہ ورانہ سفر کی بنیاد بن جائے گا۔
بعد میں صحافت میری شناخت بنی، تحقیق میرا میدان بنی اور اردو میری پیشہ ورانہ زندگی کا وسیلہ بن گئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اردو میرے قلم تک پہنچنے سے بہت پہلے میرے وجود کا حصہ بن چکی تھی۔
بچپن میں میرا خیال تھا کہ میری والدہ مجھے صرف میرے وطن کی زبان سکھا رہی ہیں۔ وقت گزرا تو احساس ہوا کہ وہ دراصل مجھے اس سے کہیں بڑا سبق دے رہی تھیں۔ وہ مجھے یہ سکھا رہی تھیں کہ لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کا سب سے مؤثر راستہ ان کی زبان سے ہو کر گزرتا ہے۔ شاید مجھے اس وقت معلوم بھی نہ تھا کہ میں ریاستی حکمتِ عملی کے ایک ایسے اصول سے آشنا ہو رہا ہوں جسے آج کی دنیا میں عوامی سفارت کاری، نرم قوت (Soft Power) اور تزویراتی ابلاغ جیسے نام دیے جاتے ہیں۔
اکثر لوگ زبان کو صرف رابطے کا ذریعہ سمجھتے ہیں مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو قومیں دیرپا اثر چھوڑتی ہیں، وہ زبان کو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں سمجھتیں۔ زبان اعتماد پیدا کرتی ہے، دلوں میں جگہ بناتی ہے، تصورات کو تشکیل دیتی ہے اور مختلف معاشروں کے درمیان ایسے پل تعمیر کرتی ہے جو سیاسی معاہدوں سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔ جغرافیہ سرحدیں کھینچ سکتا ہے لیکن زبان دلوں کی سرحدیں ختم کر دیتی ہے۔
اسی تناظر میں سعودی عرب کی اردو سے وابستگی کو صرف اپنے ہاں مقیم اردو بولنے والوں کی سہولت کے طور پر دیکھنا حقیقت کا ادھورا مطالعہ ہوگا۔ مملکت نے بہت پہلے یہ سمجھ لیا تھا کہ دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں سے ان کی اپنی زبان میں گفتگو کرنا محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک وسیع تر تہذیبی اور دینی ذمہ داری ہے۔
اسلام کے دو مقدس ترین مراکز کی میزبانی کرنے والے ملک کی حیثیت سے سعودی عرب کا تعلق صرف عرب دنیا تک محدود نہیں۔ اس کی مخاطب پوری امتِ مسلمہ ہے۔ اگرچہ عربی قرآنِ کریم کی زبان ہے اور اسلامی تہذیب کا مرکز بھی لیکن امت کی وسعت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے مختلف طبقات سے ان کی اپنی زبان میں بھی رابطہ رکھا جائے۔
یہ ہی وہ مقام ہے جہاں ’اردو نیوز‘ میرے لیے صرف ایک اخبار نہیں رہا۔ وہ ایک علامت بن گیا۔ اس نے مجھے یہ سکھایا کہ قوموں کے درمیان مضبوط تعلقات صرف معاہدوں سے نہیں بنتے بلکہ اس وقت بنتے ہیں جب آپ لوگوں سے ان کی اپنی زبان میں گفتگو کرتے ہیں، ان کی ثقافت کا احترام کرتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کی زبان بھی آپ کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سعودی عرب اس وقت عوامی سفارت کاری کے اس تصور پر عمل پیرا تھا، جب دنیا میں اس اصطلاح کا استعمال بھی عام نہیں ہوا تھا۔ ایک اردو اخبار کے ذریعے مملکت نے براہِ راست لاکھوں قارئین سے رابطہ قائم کیا، ان کی تہذیبی شناخت کا احترام کیا اور انہیں سعودی عرب کی ترقی، تبدیلی اور قومی سفر کو خود سعودی عرب کی اپنی آواز میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
آج جب دنیا میں ریاستوں کی ساکھ صرف ان کی خارجہ پالیسی یا معاشی قوت سے نہیں بلکہ ان کے ابلاغی انداز سے بھی متعین ہوتی ہے، تو اس وژن کی اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ چکی ہے۔ زبان اب صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ قومی تشخص، عوامی اعتماد اور عالمی اثر و رسوخ کی تشکیل کا ایک بنیادی ستون بن چکی ہے۔
جو ریاستیں لوگوں سے ان کی اپنی زبان میں بات کرتی ہیں، وہ اپنے پیغام کو دوسروں کی تشریح پر چھوڑنے کی بجائے خود لوگوں کے ذہن اور دل تک پہنچاتی ہیں۔ اسی لیے میری نظر میں اردو کو صرف سعودی عرب میں مقیم ایک تارکینِ وطن برادری کی زبان سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انیسویں صدی سے اردو برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان محض ایک زبان نہیں بلکہ تہذیبی وحدت کی علامت رہی ہے۔ اس کی خدمات شاعری، ادب اور داستان گوئی تک محدود نہیں رہیں۔ قرآنِ کریم کی تفاسیر، احادیثِ نبویؐ کے ذخائر، فقہِ اسلامی، سیرتِ طیبہ اور اسلامی فکر پر ہزاروں ایسی گراں قدر تصانیف اردو میں لکھی گئیں جنہوں نے کئی نسلوں کی علمی تربیت کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اردو صرف اظہار کا وسیلہ نہیں رہی بلکہ اسلامی علوم، فکری مکالمے اور تہذیبی رابطے کی ایک اہم زبان بن گئی۔
آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں۔ لاکھوں مسلمانوں کے لیے یہ ہی وہ زبان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مذہبی ورثے سے وابستہ رہتے ہیں، اپنی تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں اور عالمِ اسلام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہتے ہیں۔ یہ ہی زبان پاکستان کی قومی زبان بھی ہے، جو سعودی عرب کے قریب ترین تزویراتی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے اور جس کے ساتھ مملکت کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط سیاسی، معاشی، دفاعی، ترقیاتی اور انسانی تعاون پر استوار ہیں۔
اس تناظر میں اگر سعودی عرب اردو کی ترویج اور اس کے ذریعے ابلاغ میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اسے صرف اردو بولنے والوں کے لیے ایک سہولت قرار دینا حقیقت کا ادھورا تجزیہ ہوگا۔ یہ دراصل مملکت کے طویل المدتی تزویراتی مفادات میں سرمایہ کاری بھی ہے کیونکہ زبان وہ پل ہے جس کے ذریعے ریاستیں صرف اپنا پیغام نہیں پہنچاتیں بلکہ اعتماد، قربت اور دیرپا شراکت داری بھی قائم کرتی ہیں۔
ویژن 2030 کے ساتھ سعودی عرب ایک نئے عہد میں داخل ہو چکا ہے۔ آج مملکت خود کو دنیا کے سامنے صرف ایک بڑی تیل پیدا کرنے والی معیشت کے طور پر پیش نہیں کر رہی بلکہ سرمایہ کاری، سیاحت، اختراع، ٹیکنالوجی اور عالمی شراکت داریوں کے ایک متحرک مرکز کے طور پر اپنی نئی شناخت بھی تشکیل دے رہی ہے۔ اس نوعیت کی ہمہ گیر تبدیلی کو کسی ایک زبان کے ذریعے دنیا تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اگر سعودی عرب دنیا کے مختلف معاشروں تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے انہی زبانوں میں اپنی کہانی بیان کرنا ہوگی جنہیں وہ معاشرے سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔
اس حقیقت کی سب سے روشن مثال حرمین شریفین ہیں۔ ہر سال دنیا کے گوشے گوشے سے لاکھوں حجاج اور معتمرین سعودی عرب آتے ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد اردو بولنے والوں کی بھی ہوتی ہے۔ ان کی ضرورت صرف یہ نہیں کہ راستہ بتانے والی ہدایات ان کی زبان میں ترجمہ کر دی جائیں بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ عبادت کے اس روحانی سفر میں انہیں ایسی زبان میں رہنمائی میسر آئے جو ان کے دل کو اطمینان دے، ان کے ذہن کو وضاحت فراہم کرے اور انہیں یہ احساس دلائے کہ وہ اس عظیم اسلامی اجتماع کا مکمل اور محترم حصہ ہیں۔
اسی لیے حرمین شریفین میں اردو سمیت مختلف زبانوں میں خدمات کا مسلسل فروغ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ سعودی عرب کے اس مستقل عزم کا اظہار ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت ہر ممکن طریقے سے انجام دی جائے۔ یہاں زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ اعتماد، اپنائیت اور شمولیت کی علامت بن جاتی ہے۔ تاہم اردو کی اہمیت صرف مذہبی خدمات تک محدود نہیں۔
سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت اور معاشی ترقی کے میدانوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔ اس نوعیت کی شراکت داری صرف سرکاری معاہدوں سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ ایسے افراد کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو ایک دوسرے کی زبان کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے معاشرے، مزاج اور فکری پس منظر کو بھی سمجھتے ہوں۔
جو شخص پاکستان کو صرف انگریزی ذرائع سے جانتا ہے، وہ یقیناً اس کے اداروں، ریاستی ڈھانچے اور سیاسی قیادت کے بارے میں اہم معلومات حاصل کر لیتا ہے، لیکن پاکستان کی اصل نبض تک رسائی اسے اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ اردو کے ذریعے اس معاشرے کو پڑھتا ہے۔ اردو اخبارات، ادبی سرمایہ، عوامی مباحث، فکری رجحانات اور روزمرہ سماجی احساسات مل کر پاکستان کی وہ تصویر پیش کرتے ہیں جو کسی ترجمے یا ثانوی ذریعے سے پوری طرح سامنے نہیں آ سکتی۔ یہ ہی گہری تفہیم بہتر پالیسی سازی، مضبوط شراکت داری اور ایک اہم تزویراتی اتحادی کے بارے میں زیادہ حقیقت پسندانہ فہم کی بنیاد بنتی ہے۔
یہ اصول یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے۔ جس طرح سعودی عرب کے لیے اردو میں سرمایہ کاری مستقبل کی ضرورت ہے، اسی طرح پاکستان کے لیے بھی عربی زبان سے اپنا تعلق مزید مضبوط بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ پائیدار اور دیرپا تعلقات اس بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتے کہ صرف ایک فریق دوسرے کی زبان سیکھے۔ حقیقی شراکت داری تبھی پروان چڑھتی ہے جب دونوں معاشرے ایک دوسرے کو براہِ راست سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں، بغیر اس کے کہ ان کے درمیان زبان یا ثقافت کسی واسطے کی محتاج ہو۔
یہ ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت دنیا میں ابلاغ کے پورے منظرنامے کو بدل رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں وہی زبانیں زیادہ مؤثر اور بااثر ثابت ہوں گی جو ڈیجیٹل مواد، لسانی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھرپور سرمایہ کاری کریں گی۔ یہ ہی سرمایہ کاری انہیں اپنے علمی و تہذیبی ورثے کے تحفظ، اپنے قومی بیانیے کی مضبوطی اور آنے والی نسلوں تک اپنی فکری روایت منتقل کرنے کے قابل بنائے گی۔
اسی تناظر میں سعودی عرب اور پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی موقع موجود ہے۔ دونوں ممالک عربی اور اردو کی لسانی ٹیکنالوجیز، ذہین ترجمے، ڈیجیٹل مواد، علمی ذخائر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی علمی پلیٹ فارمز کی مشترکہ ترقی میں ایک دوسرے کے شراکت دار بن سکتے ہیں۔ اس تعاون کے ثمرات صرف ریاض اور اسلام آباد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو اس سے فائدہ پہنچے گا، کیونکہ زبانوں کی ترقی درحقیقت علم، تہذیب اور باہمی اعتماد کی ترقی ہوتی ہے۔
جب میں آج ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں تو مدینہ منورہ کا وہ مکان، وہ کمرہ اور وہ صبحیں ایک ایک کر کے میری آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ مجھے اپنی والدہ یاد آتی ہیں، جو محبت بھرے انداز میں اردو نیوز میرے ہاتھ میں رکھتیں اور مجھے ایک ایک لفظ پڑھنے کی ترغیب دیتیں۔ اس وقت مجھے گمان تھا کہ میں صرف اپنے وطن کی زبان سیکھ رہا ہوں، لیکن آج احساس ہوتا ہے کہ میں اس سے کہیں زیادہ قیمتی سبق سیکھ رہا تھا۔
اب سمجھ میں آتا ہے کہ میری والدہ صرف اردو نہیں سکھا رہی تھیں بلکہ وہ مجھے ایک ایسا زاویۂ نظر عطا کر رہی تھیں جس نے بعد میں ابلاغ، سفارت کاری اور ریاستی حکمتِ عملی کے بارے میں میری سوچ کی تشکیل کی۔ اردو نیوز کے صفحات میرے لیے صرف ایک اخبار کے صفحات نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسی فکری کھڑکی تھے جس سے میں نے پہلی مرتبہ یہ دیکھا کہ قومیں صرف طاقت، معیشت یا سیاست کے ذریعے ہی نہیں، بلکہ زبان، احترام اور تہذیبی قربت کے ذریعے بھی لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بناتی ہیں۔
شاید یہ ہی وہ سبق ہے جو سعودی عرب نے مجھے اردو نیوز کے ذریعے دیا۔ جو قومیں لوگوں کے دلوں تک پہنچنا چاہتی ہیں، وہ اپنے سفر کا آغاز ترجمے سے نہیں بلکہ احترام سے کرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ اعتماد پیدا کرنے، اپنے وجود کو مؤثر بنانے اور مختلف قوموں کے درمیان پائیدار تعلقات استوار کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔
اور اگر میں اپنی زندگی کے اس سفر کو ایک جملے میں سمیٹوں تو شاید یہ ہی کہوں گا کہ میں نے اردو پاکستان میں نہیں سیکھی بلکہ مدینہ منورہ میں سیکھی اور اس زبان کے ساتھ میں نے احترام، تعلق اور ریاستی بصیرت کا وہ سبق بھی سیکھا جو آج تک میری فکر کا حصہ ہے۔
