ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز جولائی میں کیا جائے گا، جبکہ انہیں مشہد میں واقع امام رضا کے روضے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ رسومات چار اور پانچ جولائی 2026 (19 اور 20 محرم) کو تہران میں امام خمینی کے مزار پر منعقد ہوں گی۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے یکم مارچ، 2026 کو تصدیق کی تھی کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کو ہونے والے حملوں میں جان سے چلے گئے تھے۔
علی خامنہ ای کون تھے؟
علی خامنہ ای 1939 میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مقامی مذہبی رہنما، جواد خامنہ ای گھر میں پیدا ہوئے اور انہوں نے نسبتاً غربت میں پرورش پائی۔
انہوں نے مشہد میں ایک مدرسے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عراق کے شہر نجف سے فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں وہ آیت اللہ خمینی کے طالب علم تھے۔
1960 اور 1970 کی دہائیوں میں خامنہ ای شاہ ایران کے خلاف مظاہروں میں شامل رہے، اور وہ اس وقت جلاوطنی میں رہنے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے کٹر حامی تھے، اور ایران کو ’مغربی رنگ میں رنگنے‘ کے خلاف تھے۔ اس کی وجہ سے شاہ کی خفیہ پولیس اور انٹیلی جنس ادارے ساواک نے انہیں گرفتار کر لیا۔
1979 کے انقلاب میں شاہ کا تختہ الٹے جانے کے بعد، ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا۔ خامنہ ای کو انقلاب کا انتظام سنبھالنے کے لیے قائم کی گئی اسلامی انقلابی کونسل کا رکن مقرر کیا گیا۔
1982 وہ 95 فیصد ووٹ حاصل کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ خامنہ ای ان انتخابات سے دو ماہ قبل قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے تھے، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور ان کا دایاں بازو ناکارہ ہو گیا تھا۔
عراق کے خلاف جنگ میں انہوں نے پاسداران انقلاب کی کمان بھی کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
1989 میں خمینی کی وفات کے بعد خامنہ ای سپریم لیڈر بنے۔ انہیں اسلامی علما کے 88 رکنی ادارے، اسمبلی آف ایکسپرٹس نے نیا لیڈر نامزد کیا تھا۔
وہ صرف روحانی پیشوا نہیں ہیں بلکہ حکومت کی سمت کا تعین کرنے، مسلح افواج کی کمان اور عدلیہ کے سربراہ کی تقرری میں مشاورت تک ان کے فرائض میں شامل تھی۔
خامنہ ای نے ملکی ایٹمی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا، جس پر امریکہ اور اسرائیل سے مسلسل تصادم ہوا۔
2018 میں ٹرمپ کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی ہتھیاروں کے درجے کے قریب تک پہنچا دی۔
اندرون ملک، سیاسی جبر اور معاشی بدحالی کے باعث خامنہ ای کو 1997، 2009، 2019 اور 2022 میں مہسا امینی کی موت پر بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا جنہیں سکیورٹی فورسز نے انتہائی سختی سے کچل دیا۔
دسمبر 2025 کے اواخر میں نو کروڑ آبادی والے اس ملک میں دوبارہ شدید معاشی مظاہرے شروع ہوئے جن میں کھلے عام اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
