پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نتالی اے بیکر سے ملاقات میں خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی ناظم الامور نتالی اے بیکر نے اسلام آباد میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران تنازع پر تعطل کے دوران علاقائی صورت حال اور پاکستان امریکہ دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے باعث عالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی تجارت متاثر ہوئی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے پاکستان امریکہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی اہم راستہ ہیں۔
وزیر خارجہ نے زور دیا کہ 18 جون کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر اس کی روح اور الفاظ کے مطابق عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جون میں طے پانے والی جنگ بندی، جسے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بھی کہا جاتا ہے، کے تحت امریکہ اور ایران کو 60 روز کے اندر، باہمی رضامندی سے مدت میں توسیع کی صورت میں، ایسا حتمی معاہدہ طے کرنا تھا جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور امریکی پابندیاں اٹھانے سے متعلق معاملات شامل تھے۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے اور دیگر معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
ملاقات کے دوران امریکی ناظم الامور نتالی بیکر نے علاقائی امن اور استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور پاکستان کے یوم آزادی پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مبارکباد پیش کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک اپنے قومی مفادات کا تحفظ بھی جاری رکھے گا۔
