خلائی مخلوق کہیں موجود ہے اور کیا اس نے کبھی زمین کا دورہ بھی کیا؟ یہ سوال ہمیشہ سے اپنے اندر بے حد پراسراریت رکھتا ہے۔
اس سال فروری میں سابق امریکی صدر اوباما نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا تھا کہ ’خلائی مخلوق حقیقت میں موجود ہے لیکن انہوں نے کبھی نہیں دیکھی۔‘
جب یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو انہیں وضاحت جاری کرنی پڑی کہ کائنات اتنی وسیع ہے کہ کہ کہیں نہ کہیں زندگی کے امکانات موجود ہو سکتے ہیں تاہم اپنے دورِ صدارت میں انہوں نے خلائی مخلوق کی جانب سے زمین سے رابطے کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا۔
گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر پہلی بار امریکہ نے خلائی مظاہر سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کی ہیں جن کا وعدہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔
تقریباً 170 خفیہ دستاویزات جو بنیادی طور پر ایسے افراد کے بیانات پر مبنی ہیں جنہوں نے یہ دعوے کیے کہ انہوں نے اڑن طشتریاں یا اس سے ملتے جلتے مظاہر دیکے ہییں۔ اب یہ حقیقت ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
خلائی مخلوق حقیقت ہے یا افسانہ ؟ یہ بحث نئی نہیں ہے بلکہ روئے زمین پر صدیوں سے موجود ہے۔ دنیا کی کم از کم دو قدیم تہذیبیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ انہیں کسی ایسی مخلوق کی رہنمائی حاصل رہی جو روئے زمین سے نہیں تھی اور دور کے جہانوں سے آئی تھی۔
ان میں سے ایک مصری تہذیب ہے جس کے اہراموں کے بارے میں ایک نظریہ یہ ہے کہ انہیں کسی ایسئ خلائی مخلوق نے بنایا تھا جو انسان سے زیادہ ترقی یافتہ تھی۔ تاہم ابھی تک اس کے شواہد نہیں مل سکے۔
جبکہ دوسری تہذیب سمیری ہے جس کی قدیم اساطیر میں خلائی مخلوق کا بہت واضح انداز میں نہ صرف ذکر موجود ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیسے اس مخلوق نے انہیں ایسے علوم سکھائے جو ان کی ہم عصر تہذیبوں کے پاس نہیں تھے۔
سمیری تہذیب کیا ہے؟
سمیری تہذیب دریائے دجلہ و فرات کے فرات کے درمیان لگ بھگ چھ سے سات ہزار سال پہلے پروان چڑھی۔ جسے دنیا کی پہلی شہری تہذیب مانا جاتا ہے۔
انہی لوگوں نے سب سے پہلے کھیتی باڑی کو اختیار کیا، زرعی آلات بنائے، مویشی پالے، کپڑا بننا سیکھا اور مٹی کے برتن بنائے۔ دنیا میں سب سے بڑی انقلابی ایجاد پہیہ کو بھی سمیریوں کی ہی تخلیق مانا جاتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ آج سے چھ ہزار سال پہلے یہ سمیری ہی تھے جنہوں نے دنیا کا پہلا رسم الخط ایجاد کیا۔
ان کے بحری بیڑے ارد گرد کے علاقوں سے تجارت کرتے تھے جن میں وادیٔ سندھ کی تہذیب بھی شامل تھی۔ سمیری ہڑپہ اور موہنجو ڈاڑو تک خرید و فروخت کے لیےآتے جاتے تھے۔ وہ بتوں کے پجاری تھےاور شہر کے وسط میں اہرام طرز کے مندر بناتے تھے۔
موجودہ عراق کے علاقے میں سومیر کوئی ایک ملک نہیں تھا بلکہ چھوٹے بڑے شہروں کا ایک مجموعہ تھا جن کی آبادی ہزاروں میں تھی ان کے سب سے بڑے شہر اورک کی آبادی 80,000 بیان کی جاتی ہے۔
طوفانِ نوح سے ملتی جلتی سمیری اساطیر
ان کا پہلا شہر ایردو تھا جس کے بارے میں پرانی کہانیاں بتاتی ہیں کہ اسے پانی کے دیوتا ’اینکی‘ نے سمندر سے ابھار کر کھڑا کیا تھا۔ یہ کہانی طوفانِ نوح سے ملتی جلتی ہے کہ کیسے ایک ’زیوسدری نامی‘ انسان جسے عظیم سیلاب بہا نہیں سکا اس نے ایک بہت بڑی کشتی بنائی اور تمام جانوروں کے جوڑے بنا کر کشتی پر سوار کیا یوں زمین پر اس عظیم سیلاب کے باوجود
زندگی بچ گئی۔ سمیری ریاستیں دنیا کی وہ پہلی ریاستیں تھیں جن کا دستور تھا اور تمام شہریوں پر اس کی پابندی لازمی تھی۔
سمیری ریاضی میں ماہر تھے انہوں نے ایک ساٹھی (60) نظام بنایا جس سے علمِ فلکیات کو بیان کیا۔
سال میں 360 دن اور اسے چھ پر تقسیم کر کے موسم بنائے۔ انہوں نے سیلاب پر قابو پانے کے لیے دریائے دجلہ و فرات سے نہریں نکالیں جن سے وہ کھیتی باڑی بھی کرتے تھے۔
سمیری ہی وہ پہلی نسل تھے جنہوں نے جڑی بوٹیوں سے علاج شروع کیا۔ انہیں انسانی بناوٹ یعنی انا ٹومی کا بھی پورا علم تھا۔
کیا واقعی سمیریوں کو خلائی مخلوق نے علوم و فنون سکھائے؟
سمیری ایسے دیوتاؤں کے پجاری تھے جو دوسرے سیاروں سے آئے تھے۔ جنہوں نے اپنے علم کو سمیریوں میں منتقل کیا۔ سمیریوں نے ان دیوتاؤں کے مجسمے بنا کر انہیں محفوظ کر لیا۔
مثال کے طور پر ایک دیوتا کا پورا جسم مچھلی کی مانند ہے اس کے ہاتھ اور پاؤں انسانوں سے ملتے جلتے ہیں یہ اپنے پروں سے اڑ بھی سکتا ہے۔ اس کا نام ’آنس‘ ہے ایک روایت کے مطابق اسی نے سمیریوں کو لکھنا پڑھنا سکھایا،انہیں گھر بنانے اور جیومیٹری کے اصول بتائے۔
جب آنس اپنا کام مکمل کر چکا تو آسمان سے ایک اور دیوتا ’اپکالو‘ آیا جس نے آنس کے کام کا جائزہ لیا۔
مشہور ماہر فلکیات کارل سیگن نے سمیری تہذیب کے بارے میں لکھا ہے کہ ’یہ عین ممکن ہے کہ کسی غیر زمینی مخلوق نے کسی وقت زمین کا دورہ کیا ہو، آنس جیسی اساطیر اس قابل ہیں کہ انہیں غور سے پڑھا جائے اس امکان کے ساتھ کہ یہ کسی غیر زمینی تہذیب سے براہِ راست رابطے کی ایک ممکنہ تعبیر ہو سکتی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پس منظر میں ایک یو ایف او نظریہ بھی موجود ہے جس کے مطابق سمیری عقیدے میں ’انونا‘ نامی مخلوق سیارہ نبیرو سے زمین پر آئی تھی اور 1040 ق م میں واپس چلی گئی تھی۔ سمیری اساطیر کے مطابق ’اونونا‘ نامی خلائی
مخلوق سیارہ نبیرو سے تقریباً450,000 ق م میں زمین پر آئی وہ معدنیات خصوصاً سونا تلاش کررہے تھے اس مقصد کے لیے انہوں نے غلاموں کی ایک محنت کش جماعت بنائی جو ان کے لیے سونا نکال سکیں۔
انہوں نے اپنے جینز کو سب سے ذہین بندروں میں منتقل کیا جس سے ہومو سیپئنز وجود میں آئے۔ سمیری اساطیر بادشاہوں اور ان پر حکمرانی کرنے والے دیوتاؤں کے بارے میں ہیں۔ ب
عض قصے نہایت پیچیدہ اور ہمہ گیر ہیں۔ وہ کائنات کے بارے میں ایسا علم رکھتے تھے جس کا تصور آج سے چھ ہزار سال پہلے نہیں کیا جا سکتا تھا ۔
خلائی مخلوق موجود ہے یا نہیں؟ سائنس اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں دے سکی۔ لیکن سمیری دنیا کی واحد تہذیب ہے جس میں خلائی مخلوق کا تصور ہزاروں سال پہلے موجود ہے۔
سمیریوں کی علوم و فنون پر حیران کن دسترس اس بحث کو مزید دلچسپ بنا دیتی ہے کہ زمین پر کبھی خلائی مخلوق نے دورہ کیا تھا اور وہ انسانوں کے ساتھ رہتی رہی ہے


