دنیا کے نقشے پر کچھ سرحدیں صرف لکیریں نہیں ہوتیں، وہ قوموں کی قسمت کا فیصلہ بھی کرتی ہیں۔
پاکستان اور ایران کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد بھی ایسی ہی ایک سرحد ہے، جو آج صرف جغرافیہ نہیں بلکہ سیاست، معیشت، توانائی اور خطے کے مستقبل کی کہانی بن چکی ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران ہزاروں کنٹینرز پھنسنے کے بعد پاکستان نے ایران کے لیے چھ زمینی راہداری راستے فعال کیے ہیں، جن کے ذریعے کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم سے سامان ٹرکوں کے ذریعے ایران پہنچ سکتا ہے۔
بظاہر یہ فیصلہ صرف ایران کو سہولت دینے کے لیے دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے پاکستان کے اپنے بڑے معاشی، تجارتی اور سٹریٹیجک مفادات بھی ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 2.8 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ تجارت کا توازن زیادہ تر ایران کے حق میں ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تجارتی حجم کو بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا جا چکا ہے۔
ایران کو راہداری دینے سے پاکستان کو سب سے بڑا فائدہ ٹرانزٹ فیس اور لاجسٹکس انڈسٹری کی صورت میں ہوسکتا ہے اور برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دنیا میں وہ ممالک تیزی سے ترقی کرتے ہیں جو تجارت کے راستے بن جاتے ہیں۔ دبئی، سنگاپور اور ترکی اس کی بڑی مثالیں ہیں۔
پاکستان اگر خطے کی تجارت کا گیٹ وے بن جاتا ہے تو صرف ٹرانسپورٹ، ویئر ہاؤسنگ، کسٹمز، فیول، انشورنس اور پورٹ سروسز سے سالانہ اربوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔
گوادر بندرگاہ اس پوری حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بن سکتی ہے۔ گوادر سے ایران کے گبد بارڈر تک فاصلہ نسبتاً کم ہے اور بعض اندازوں کے مطابق گوادر سے ایرانی سرحد تک سامان کی ترسیل کراچی کے مقابلے میں 45 سے 55 فیصد کم لاگت پر ممکن ہو سکتی ہے۔
اس سے گوادر کی معاشی اہمیت بڑھ سکتی ہے، جس پر چین پہلے ہی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔
پاکستان کافی عرصے سے گوادر کو دبئی اور عمان کی بندرگاہوں کا متبادل بنانا چاہتا ہے، اس کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
سرکار کا دعویٰ ہے کہ ان راہداریوں سے ایران، پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کا حجم مستقبل میں 15 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بلوچستان میں ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، مارکیٹس، بارڈر ٹریڈ اور چھوٹی صنعتوں کے ذریعے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
بلوجستان کا ایران پر مالی انحصار بہت زیادہ ہے۔ گوادر ائیرپورٹ کو جو بجلی فراہم کی جاتی ہے وہ بھی ایران سے آتی ہے۔
بارڈر علاقوں میں دودھ، انڈے، ڈبل روٹی، گوشت، پانی اور پیٹرول ڈیزل کئی سالوں سے ایران سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر اسے قانونی شکل مل جائے تو سرکاری آمدن میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
جنگ کے بعد افغانستان بارڈر بند ہونے سے تجارت متاثر ہوئی۔ اب پاکستان ایران کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ متبادل تجارتی راستہ موجود رہے۔
ایران دنیا کے تیسرے بڑے گیس اور تیل ذخائر رکھنے والا ملک ہے۔ پاکستان کے ساتھ بہتر راہداری اور زمینی روابط مستقبل میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور توانائی تجارت کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ایران کو راہدریاں دے کر پاکستان نے خطے میں ایک نیا مضبوط دوست بنالیا ہے۔ پہلے بنگلہ دیش اور اب ایران کی پاکستان سے بڑھتی قربتوں کو بھارت کے لیے ایک سفارتی شکست کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود راہداری کی اجازت کیسے مل گئی؟
دراصل امریکی وزارت خزانہ کے ادارے آفس آف فارن ایسٹ کنٹرول کے مطابق امریکہ کی ایران پر پابندیاں بنیادی طور پرتیل، بینکاری، شپنگ، دفاعی شعبے اور ایران کے بعض سرکاری اداروں پر مرکوز ہیں۔
امریکی قوانین میں بھی ہیومینیٹیرین ایکسیپشن یعنی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تجارت کے لیے گنجائش موجود ہے۔
جنگ زدہ علاقوں میں بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے تجارت کرنا اقوام متحدہ کے قوانین کے عین مطابق ہے۔ پاکستان بظاہر کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا ہے۔
لیکن اس فیصلے کے کچھ نقصانات بھی سامنے آسکتے ہیں۔
سب سے بڑا خطرہ امریکی پابندیاں ہیں۔ ایران پر مختلف امریکی اور مغربی پابندیاں موجود ہیں۔ اگر پاکستان کی سرگرمیاں پابندیوں کی زد میں آئیں تو بینکاری، انشورنس اور عالمی مالیاتی نظام میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں شورش، سمگلنگ اور سرحدی حملے اس راہداری کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
کمزور انفراسٹرکچر صلاحیت بھی ایک بڑا مسئلہ بن سکتاہے۔ سڑکیں، ریلوے، کسٹمز نظام اور بارڈر مینجمنٹ ابھی عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ ان میں بہتری لانے کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایران کو بھی ان راہداریوں کے بہت زیادہ فوائد ہیں۔
سب سے بڑا فائدہ ایران کو متبادل تجارتی راستے کی صورت میں ملے گا۔ ایران کی معیشت طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کے باعث دباؤ میں ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بینکنگ، شپنگ اور تیل کے شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے زمینی راستے ایران کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ سمندری دباؤ کے بغیر تجارت جاری رکھ سکے۔
امریکی پابندیوں کے باعث کئی عالمی شپنگ کمپنیاں ایران جانے سے ہچکچاتی ہیں، مگر زمینی تجارت نسبتاً کم نگرانی میں ہوتی ہے۔
اس وجہ سے ایران پاکستان کے ذریعے مشینری، خوراک، صنعتی سامان اور دیگر اشیا حاصل کر سکتا ہے۔ یہ راستے ایران کے لیے جزوی طور پر امریکی دباؤ کو کم کر سکتے ہیں۔
اگر ایران صرف خلیج فارس کے راستے تجارت پر انحصار کرے تو کسی بھی جنگ، پابندی یا بحری ناکہ بندی سے اس کی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے زمینی راستے ایران کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا سے متبادل رابطہ دیتے ہیں۔
مختصراً، پاکستان کی راہداری ایران کے لیے معاشی آکسیجن کی حیثیت رکھ سکتی ہے۔یہ ایران کو متبادل تجارتی راستہ، پابندیوں کے دباؤ میں کمی، وسطی ایشیا تک رسائی، توانائی تجارت کے مواقع اور علاقائی اثرورسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

