میں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پچھلے پچاس دن سے جاری بحران پر اب تک کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ بعض أوقات خاموشی غیرجانبداری نہیں ذمہ داری ہوتی ہے۔
اس خاموشی کی وجہ یہ احساس تھا کہ جب کوئی بحران اپنے نازک ترین مرحلے میں ہو تو فوری تبصرے اکثر کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ خاموش سفارت کاری کبھی کبھی زیادہ سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس دوران مختلف متعلقہ حلقوں سے رابطے، پس پردہ مکالمے اور خیرسگالی کی بنیاد پر ایسے امکانات تلاش کرنے کی کوشش کی گئی جن کے ذریعے تصادم ٹل جائے اور مزید انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
حالات کو معمول پر لانے میں مثبت کردار ادا کرنے کےلیے اعتماد کی وہ محدود سی جگہ محفوظ رکھنی پڑتی ہے جہاں مختلف فریق بات سننے پر آمادہ ہوں۔ بدقسمتی سے یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ اب جبکہ بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات کا آغاز ہو رہا ہے، اس صورت حال کو وقتی سیاسی بحث سے بلند ہو کر ایک وسیع ترعلمی ریاستی، اور جمہوری تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام جموں وکشمیر کی موجودہ صورت حال کو محض احتجاج، دھرنے یا امن وامان کے مسئلے کے طور پر دیکھنا اس بحران کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ کالعدم قرار دی جانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پورے کشمیر کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس نے برسوں سے جمع ہونے والی عوامی بے چینی، حکمرانی سے متعلق شکایات اور نمائندگی کے احساسِ محرومی کو ایک مؤثر اظہار دیا۔ کسی بھی سماجی تحریک کی أصل قوت اس کے کارکنوں کی تعداد میں نہیں بلکہ ان سوالات میں ہوتی ہے جن کا جواب سیاسی نظام بروقت دینے میں ناکام رہتا ہے۔
آج جب کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات کا آغاز ہو رہا ہے تو بنیادی سوال نشستوں کی تقسیم نہیں بلکہ انتخابی عمل کی ساکھ کا ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ اس یقین کا نام ہے کہ عوام کا ووٹ ان کی آواز کو ریاستی فیصلوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کے مسائل کا مؤثر حل اسمبلی، سیاسی جماعتوں اور انتخابی عمل کی بجائے صرف مسلسل احتجاج سے حاصل ہوتا ہے تو یہ کسی ایک حکومت یا جماعت کی شکست نہیں بلکہ نمائندہ سیاست کے لیے ایک گہرا چیلنج ہوگا۔
یہ بحران دراصل دو مختلف دائروں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک طرف ریاست اور منتخب اداروں کا آئینی جواز ہے اور دوسری طرف عوام کا اعتماد۔ جب یہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہونے لگیں تو ریاست کی قانونی حیثیت برقرار رہنے کے باوجود اس کی سماجی قبولیت متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں بحران انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اور ادارہ جاتی بن جاتا ہے۔
تاہم اس بحران کا تجزیہ صرف ریاستی اقدامات تک محدود رکھنا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ ہر سماجی تحریک کی اپنی داخلی حدود بھی ہوتی ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ابتدائی طاقت اس کے حقوق پر مبنی مطالبات تھے۔ مہنگائی، بجلی کے نرخ، عوامی خدمات اور حکمرانی سے متعلق مسائل نے اسے ایک وسیع سماجی قبولیت عطا کی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے بعض مطالبات اور مباحث بتدریج ایسے سیاسی، آئینی اور شناختی موضوعات تک پھیلنے لگے جن کی نوعیت بنیادی طور پر ادارہ جاتی سیاست سے متعلق تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اصولی طور پر آئینی یا سیاسی سوالات اٹھانا کسی بھی معاشرے میں قابلِ اعتراض نہیں۔ لیکن آئینی نوعیت کے معاملات کا پائیدار حل بالآخر سیاسی جماعتوں، قانون ساز اداروں، انتخابات اور مسلسل سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔ احتجاج کسی بحث کو جنم دے سکتا ہے، عوامی دباؤ پیدا کر سکتا ہے مگر وہ مستقل طور پر سیاسی اداروں کا متبادل نہیں بن سکتا۔ یہ ہی وہ مقام تھا جہاں تحریک کے کردار اور اس کے بڑھتے ہوئے مقاصد کے درمیان ایک عدم توازن پیدا ہوتا دکھائی دیا۔ بعض شناختی اور آئینی مباحث نے، خواہ ان کی نیت کچھ بھی رہی ہو، ریاستی حساسیت میں اضافہ کیا اور اعتماد کے موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
دوسری طرف ریاست کے لیے بھی یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے۔ کسی بھی احتجاج کو صرف انتظامی مسئلہ سمجھ لینا اس کے پس منظر میں موجود گہرے سیاسی، سماجی اور معاشی عوامل کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست کی طاقت صرف قانون نافذ کرنے کی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو عوام اس پر کرتے ہیں۔ ہر وہ جان جو اس کشیدگی کی نذر ہوئی، وہ ہم سب کے اجتماعی ضمیر پر ایک سوال ہے کہ کیا ہمارے ادارے اختلافات کو مکالمے اور جمہوری ذرائع سے حل کرنے کی مطلوبہ صلاحیت رکھتے ہیں؟
میرے نزدیک آج سب سے بڑا خطرہ موجودہ احتجاج نہیں بلکہ یہ امکان ہے کہ عوام کے ذہن میں یہ تصور مضبوط ہو جائے کہ ان کے مسائل کا مؤثر حل ووٹ سے نہیں بلکہ سڑک سے نکلتا ہے۔ اگر یہ سوچ راسخ ہو گئی تو اس کے اثرات موجودہ بحران سے کہیں زیادہ گہرے اور دیرپا ہوں گے، کیونکہ اس سے نمائندہ سیاست اور انتخابی عمل کی اخلاقی بنیاد کمزور پڑ سکتی ہے۔
لہٰذا اس مرحلے پر نہ کسی کی فتح میں ریاست کی کامیابی ہے اور نہ کسی کی شکست میں عوام کی۔ کامیابی اسی میں ہے کہ ریاست عوام کا اعتماد بحال کرے، سیاسی جماعتیں اپنی نمائندہ حیثیت دوبارہ منوائیں اور سماجی تحریکیں بھی یہ غور کریں کہ وہ اپنی اخلاقی قوت کو کس طرح ایک بالغ، ادارہ جاتی اور پائیدار سیاسی عمل میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ یہ ہی راستہ کشمیر کو محاذ آرائی کے دائروں سے نکال کر ایک مضبوط، بااعتماد اور جمہوری مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
