ایڈانی گروپ کا امریکہ سے ساڑھے 27 کروڑ ڈالر کا تصفیہ

انڈیا کے ارب پتی بزنس مین گوتم ایڈانی کے گروپ کی ایک کمپنی نے پیر کو امریکی حکومت کے ساتھ ساڑھے 27 کروڑ ڈالر کا تصفیہ کر لیا ہے جو ایران پر امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق تحقیقات کے بعد طے پایا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول نے کہا ہے کہ ایڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے ساتھ یہ معاہدہ طے پایا ہے۔

بیان کے مطابق کمپنی نے 32 ایسی خلاف ورزیوں کے الزامات کو نمٹانے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو ایران پابندیوں سے متعلق ہیں۔

یہ معاملہ نومبر 2023 سے جون 2025 کے دوران مائع پیٹرولیم گیس کی خریداری سے متعلق تھا۔

امریکی حکام کے مطابق تحقیقات کا مرکز دبئی میں قائم ایک سپلائر کے ذریعے ہونے والی درآمدات تھیں، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ عمانی اور عراقی گیس برآمد کر رہا ہے، تاہم ’اشارے موجود تھے کہ ایل پی جی دراصل ایران سے حاصل کی جا رہی تھی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر ایڈانی انٹرپرائزز نے سٹاک ایکسچینج کو دیے گئے بیان میں تصدیق کی ہے کہ یہ معاہدہ 14 مئی کو طے پایا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایڈانی گروپ پہلے ہی ایک علیحدہ امریکی مقدمے میں 18 ملین ڈالر کے تصفیے پر بھی رضامند ہو چکا ہے، جو مبینہ کرپشن سے متعلق تھا، تاہم کمپنی نے کسی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔

ایڈانی گروپ، جو بندرگاہوں، توانائی، سیمنٹ اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم ہے، حالیہ برسوں میں مالی بے ضابطگیوں اور سٹاک مارکیٹ میں بڑے اتار چڑھاؤ کے الزامات کی زد میں رہا ہے۔

گوتم ایڈانی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں اور ان کا تعلق ریاست گجرات سے ہے، جبکہ انڈیا مائع پیٹرولیم گیس کا دنیا میں دوسرا بڑا خریدار ہے۔

Top of Form

Bottom of Form


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *