وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کو ایران اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک میں تعینات پاکستان کے سفیروں کے ساتھ اجلاس میں اقتصادی سفارت کاری کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔
اسلام آباد میں منعقدہ اس اجلاس کے دوران سفیروں نے وزیراعظم کو اپنے اپنے ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورت حال، ابھرتے ہوئے مواقع اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر اقتصادی سفارت کاری، تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے، ترسیلاتِ زر میں اضافے اور پاکستانی تارکینِ وطن سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم نے سفیروں سے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی گفتگو کی جس میں خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر خصوصی بات چیت کی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر برائے اقتصادی امور ڈویژن احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے شرکت کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور ایران کی تاریخی، اقتصادی اور تزویراتی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سفیروں کو ہدایت کی کہ ’وہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔‘
جی سی سی ممالک میں سعودی عرب، کویت، بحرین، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس تنظیم نے اکتوبر 2023 میں پاکستان کے ساتھ پہلا آزاد تجارتی معاہدہ کیا تھا۔
بعدازاں مئی 2024 میں خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان اور خلیجیی ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت آخری مراحل میں ہے۔
27 نومبر 2025 کو بحرینی دارالحکومت منامہ میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے جی سی سی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر ’جلد دستخط‘ کی نوید سنائی تھی۔
