روس کے دارالحکومت ماسکو میں حکام کے مطابق پیر کی صبح ابتدائی گھنٹوں میں درجنوں ڈرون مار گرائے گئے، جس کے بعد شہر کے بڑے ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔
یہ صورت حال اس وقت پیش آئی جب یوکرین کی جانب سے روس کے ایک آئل ریفائنری پر دوبارہ حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق تقریباً 60 ڈرون شہر کی طرف آ رہے تھے جنہیں فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ڈرون گرے وہاں ایمرجنسی سروسز روانہ کر دی گئیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
حکام کے مطابق ماسکو کے تین بڑے ایئرپورٹس، شیرمیٹیوو، ڈومودیدوو اور ونوکووو، کے ساتھ ساتھ ژوکووسکی ایئرپورٹ پر بھی پروازیں کچھ وقت کے لیے روک دی گئیں، بعد میں معمول کے مطابق بحال کر دی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق روسی فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر رات بھر میں 300 سے زائد ڈرون مار گرائے، جن میں کچھ یوکرین کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بھی شامل تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب یوکرین حکام کا کہنا ہے کہ روسی ڈرون حملوں میں شہری بحری جہاز بھی نشانہ بنے، جن میں ایک مصری عملے کا رکن کی موت ہوئی۔ یوکرین کے شہر سومی میں ایک ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت کم از کم پانچ افراد مارے گئے۔
یوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریزھیا میں بھی ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے۔
ادھر روس نے بھی یوکرین کے جنوبی علاقے اوڈیسا میں میزائل حملہ کیا، جس میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد زرعی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔
کرائمیا میں بھی صورت حال کشیدہ رہی جہاں حکام نے عوامی تقریبات محدود کر دیں اور توانائی کی بچت کے اقدامات شروع کر دیے۔
دونوں ممالک کے درمیان ڈرون اور میزائل حملوں کا یہ سلسلہ جنگ کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ اور اس کے شہری و معاشی اثرات کو مزید نمایاں کر رہا ہے، خاص طور پر توانائی، ٹرانسپورٹ اور بحری تجارت کے شعبوں میں۔
