اسرائیلی فضائی حملے سے 7 افراد کی موت، لبنانی آرمی چیف کی امریکی جنرل سے ملاقات

جنوبی لبنان میں ہفتے کو اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کو جنوبی لبنان کے نو دیہاتوں کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی نئی وارننگ جاری کی ہے۔

17 اپریل سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ہفتے ہی کو لبنان کے سرحدی گاؤں یارون میں اسرائیلی فوج نے بلڈوزرز کے ذریعے ایک کیتھولک خانقاہ کو تباہ کر دیا جو حالیہ لڑائی کے باعث پہلے ہی خالی ہو چکی تھی۔

کیتھولک حکام کے مطابق اس خانقاہ میں ایک سکول اور ایک کلینک بھی شامل تھا جبکہ وہاں رہنے والی دو راہبائیں جنگ کے باعث علاقہ چھوڑ چکی تھیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ یارون میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی تھی جس کے نتیجے میں اس عمارت کو نقصان پہنچا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم لبنان میں کیتھولک چرچ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور یہ مقامات امن، محبت اور تعلیم کے فروغ کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ فوجی مقاصد کے لیے۔

جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں میں بھی اسرائیلی حملے جاری رہے، جن میں مختلف دیہات میں گاڑیوں اور گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب لبنانی آرمی چیف اور امریکی جنرل کی بیروت میں ملاقات ہوئی۔

روئٹرز کے مطابق لبنانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل روڈولف ہیکل اور امریکی جنرل جوزف کلیئر فیلڈ نے لبنان کی سکیورٹی صورت حال اور خطے میں جاری پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

لبنانی فوج کے بیان کے مطابق امریکی جنرل جوزف کلیئر فیلڈ اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جو امریکہ کی حمایت سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران دونوں فوجی رہنماؤں نے لبنانی فوج کے کردار کی اہمیت پر زور دیا اور موجودہ صورت حال میں اس کی حمایت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *