لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کا ذکر چھیڑا جائے تو برازیل اور ارجنٹائن کے نام سب سے پہلے زبان پر آتے ہیں، لیکن اس کھیل کے جنون میں ڈوبے لیاری کے رہائشی شاہ مراد سعودی عرب کی قومی فٹ بال ٹیم ’گرین فالکنز‘ کے فین ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل لیاری کا علی محمد محلہ ایک منفرد منظر پیش کر رہا ہے، گویا عالمی فٹ بال میلے کا کوئی حصہ یہیں سجنے والا ہو۔
اسی علاقے کے رہائشی شاہ مراد نے گذشتہ دو دہائیوں سے ایک مختلف راستہ اختیار کر رکھا ہے، جنہیں پورا علاقہ ’شانی القحطانی‘ کے نام سے جانتا ہے۔
شاہ مراد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ’شانی القحطانی‘ کے نام سے پکارے جانے کی وجہ کچھ یوں بتائی۔ ’یاسر القحطانی میرا پسندیدہ کھلاڑی تھا، اسی لیے دوستوں نے مجھے شانی القحطانی کہنا شروع کر دیا۔‘
انہوں نے بتایا: ’لیاری میں سب برازیل اور ارجنٹائن کے فین ہیں، میں واحد سعودی فین ہوں۔ لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ سعودی فین آگیا، لیکن مجھے اس پر فخر ہے کیونکہ مجھے گرین فالکنز کا کھیل پسند ہے۔‘
ان کی سعودی ٹیم سے محبت محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ یادگاروں سے بھرا ایک ایسا خزانہ ہے، جو ان کے جنون کی گواہی دیتا ہے۔ ان کے پاس برسوں پرانے سعودی پرچم محفوظ ہیں۔ 1998 ورلڈ کپ کی سعودی جرسی آج بھی ان کے مجموعے کا حصہ ہے، جبکہ سعودی سٹار سالم الدو سری کی جرسی بھی ان کے پاس موجود ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شاہ مراد نے ایک یادگار لمحہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 2024 میں جناح سٹیڈیم میں ہونے والے پاکستان اور سعودی عرب کے فٹ بال میچ کے دوران ایک سعودی کھلاڑی کی جانب سے پھینکی گئی ٹی شرٹ ملی تھی، جسے انہوں نے بعد ازاں فریم کروا کر محفوظ کر لیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی موقعے پر انہیں ایک مفلر بھی ملا تھا، جس پر سعودی ٹیم کے کپتان سالم الدوسری سمیت دیگر کھلاڑیوں کے آٹوگراف موجود ہیں، جو ان کے لیے اس یادگار مقابلے کی ایک قیمتی نشانی ہے۔
2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں جب سعودی عرب نے عالمی چیمپیئن بننے والی ارجنٹائن کو حیران کن شکست دی تھی تو یہ لمحہ شانی القحطانی کے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہ تھا۔ انہوں نے نہ صرف اس تاریخی کامیابی کا جشن منایا بلکہ اپنی پسندیدہ ٹیم کی کامیابی پر فخر کا اظہار بھی کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جب کسی ٹیم سے محبت ہو جائے تو پھر آخر تک اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ میری سعودی ٹیم سے محبت 20 سال پرانی ہے۔ پہلے سعودی جرسیاں اور شرٹس مشکل سے ملتی تھیں، لیکن 2022 میں ارجنٹائن کےخلاف تاریخی فتح کے بعد ان کی دستیابی بہت آسان ہو گئی۔‘
