ہمیں خاموش رہنا کیوں نہیں سکھایا جاتا؟ مسلسل باتیں نارمل کیوں ہیں؟

دو لوگ بیٹھے ہیں کسی جگہ پر، ملاقات پہلی ہے، دونوں زبردستی بات کرنے کی کوشش میں ہیں۔ خاموشی کیوں نہیں ہے؟

خاموشی آکورڈ کیوں لگ رہی ہے؟

بات کرنا نارمل ہونے کی نشانی کیوں ہے؟

اب انہی دو لوگوں کو ایک سال ہو گیا آپس میں باتیں کرتے ہوئے، سب باتیں ختم ہو گئیں، دونوں یہ باتیں پہلے بھی کئی بار کر چکے ہیں، دونوں کو پتہ ہے کہ اب نئی بات کوئی نہیں بچی، آج وہ دونوں ایک بار پھر وہیں بیٹھے ہیں، خاموشی لیکن آج بھی آکورڈ لگ رہی ہے۔

دونوں سوچ رہے ہیں کہ اب ہماری دوستی میں کچھ بھی نہیں باقی رہ گیا، موضوع کوئی نہیں ہے بات کرنے کو ۔۔۔ یہ دونوں کو علم تو ہے لیکن زبردستی باتیں کی جا رہی ہیں، دونوں کو پتہ ہے کہ ان باتوں سے کوئی ویلیو ایڈ نہیں ہو رہی اس وقت، لیکن پھر بھی زبان چل رہی ہے، اُس کے چلتے ہوئے دماغ سوچ رہا ہے کہ آگے کیا بولنا ہے، ہونٹ ہل رہے ہیں بس اور اسی چکر میں سب کچھ بے ربط لگ رہا ہے ، لیکن بولتے بھی جانا ہے ۔۔۔ کیونکہ ’گفتگو‘ کے ساتھ ’صحت مند تعلق‘ کو جوڑ دیا گیا ہے۔

اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے یار؟ دو لوگ اگر کہیں جا رہے ہیں، بیٹھے ہیں، لیٹے ہیں، چائے پی رہے ہیں، کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔ تو یہ سب کچھ بات کیے بغیر کیوں نہیں ہو سکتا؟ بولتے رہنا ضروری کب سے ہو گیا ہے؟

دوست بڑی نعمت ہوتے ہیں ۔۔۔ میں، عثمان، قاسم، ہم تینوں، میٹرک ایف اے کے زمانے میں دس دس گھنٹے ساتھ ہوتے تھے اور بڑے پرخلوص طریقے سے خاموش بیٹھے رہتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوا، ایک بندے نے ڈبی جیب سے نکالی، دو سگریٹ باہر کھسکائے، سلیقے سے باقی دونوں کے سامنے پیش کی، جس کا دل کیا اس نے ایک پکڑ لی، اب ڈبی میز پہ ہے، لائٹر جلا کے دونوں کی سگریٹ سلگائی گئی، پھر اپنی لگائی، اس کے بعد تینوں پھر سے اپنے اپنے خلا میں گھور رہے ہیں۔

کوئی بات ہوتی ہے تو کر لیتے ہیں ورنہ بیٹھے ہوئے ہیں آرام سے، کسی کا سنڈریلا ٹائم ہو گیا تو سلام دعا کے بعد گھر واپسی، بات ختم۔ اگلے دن پھر اسی طرح بیٹھ جائیں گے۔

ایک بار ہم لوگ ایسے ہی بیٹھے تھے تو میں نے قاسم سے پوچھا کہ یار تُو سفر میں ٹائم کیسے گزارتا ہے؟ کہنے لگا ’میں سٹیشن پہ وقت سے پہلے پہنچ جاتا ہوں اور بس آنے جانے والوں کے چہرے دیکھتا ہوں، انہیں آبزرو کرتا ہوں کہ کون کسی کو لینے آیا ہے، کون مسافر ہے، کون حلیے سے کیسا لگ رہا ہے، کون جلدی میں ہے، کون سکون سے انتظار کر رہا ہے۔‘

یہ سب کچھ نارمل ہے۔ کوئی سفر میں خاموش، بس آبزرویشن کر رہا ہے، کوئی خاموشی سے کھانا پسند کرتا ہے، کسی کو ڈرائیونگ میں چپ رہنا اور سوچنا پسند ہے، کوئی بات نہ کر کے سکون میں ہے تو پھر اس میں کیا برائی ہے؟

فرنود اور میں اکٹھے تھے ایک مرتبہ، وہ سو گیا رات کو، اوپر بیڈ پہ وہ سو رہا تھا میں زمین پہ گدا ڈال کے لیٹا تھا، صبح وہ اٹھا تو اس نے میری طرف دیکھ کے ہاتھ ہلا دیا، میں نے بھی والسلام قسم کا اشارہ کر دیا، بات ختم ہو گئی۔ شام کو بولا، ’یار پہلا آدمی دیکھا ہے زندگی میں، جسے میری طرح اٹھنے کے آدھ پون گھنٹے بعد تک سُن رہنے کی عادت ہے۔ لوگ صبح اٹھتے ہی بولنا کیوں شروع کر دیتے ہیں؟‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں پورے ایک ہفتے بعد تین چار منٹ یہاں آپ لوگوں کے سامنے بولتا ہوں، دنیا کو لگتا ہے مجھ سے بڑا چیٹر باکس کوئی نہیں ہو گا لیکن ایسا نہیں ہے بابا ۔۔۔ خود مجھ سے زیادہ بور آدمی دنیا میں کوئی نہیں ہے اور اسی مقدمے کو جسٹیفائے کرنے کے لیے یہ بات آپ کے سامنے کر رہا ہوں کہ مستقل باتیں کرنا کہیں سے بھی اچھی دوستی یا تعلق کے لیے ضروری نہیں ہے پھر وہ چاہے پہلی ملاقات ہو یا آخری۔

اگر آپ کسی کے ساتھ اچھا محسوس کر رہے ہیں، سکون میں ہیں، سیف ہیں، مطمئن ہیں تو بس کافی ہے، باتیں ضروری نہیں ہیں، ہاں ایک چیز ہے؛ خاموشی اگر آپ کو پریشان کر رہی ہے تو اپنے اندر جھانکیں ۔۔۔ کیا چیز آپ کو بات کرنے پہ اُکسا رہی ہے؟

خاموشی سے اس لیے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ اپنے خیالوں کے جنگل میں چھلانگ لگانا پڑے گی؟ آپ کسی ذاتی فیلنگ کا سامنا نہیں کر پا رہے؟ آپ کو ’چپ‘ سے اینزائٹی ہو رہی ہے؟ اگر ایسا کچھ ہے تو پہلے خود اس کی وجہ سمجھیں اور اس کا حل نکالیں۔

باقی بندے کی ٹائپ کو سمجھیں بس ۔۔۔ کم بولنے والے قسم کے لوگوں سے بہتر کنیکٹ ہونے، یا انڈرسٹینڈنگ کے لیے مزید باتیں ضروری نہیں ہوتیں ۔۔۔ وائبز چیک کریں، آپ ان کے ساتھ پرسکون ہیں تو عموماً آپ کنیکشن اور انڈسٹینڈنگ کے اس مقام پر پہلے سے ہی فائز ہوتے ہیں، فالتو باتیں الٹا کام خراب ہی کریں گی۔

اور ویسے بھی ایک سال سے زیادہ وہ دو لوگ کتنا بات کر سکتے تھے؟


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *