معذوری کے باوجود پاکستان بھر میں سانپوں پر تحقیق کرنے والے مدثر

پنجاب سے تعلق رکھنے والے جسمانی طور پر معذور نوجوان محقق مدثر بصری کہتے ہیں کہ پاکستان میں 80 سے زائد اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے صرف تقریباً 10 اقسام واقعی خطرناک ہیں۔

وہ گذشتہ چھ برس سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں جا کر سانپوں اور دیگر رینگنے والے جانداروں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ محدود مالی اور جسمانی مشکلات کے باوجود وہ دور دراز علاقوں کا سفر کر کے سانپوں کی تصاویر، ویڈیوز اور ڈی این اے نمونے اکٹھے کرتے ہیں۔

ان کی کچھ تحقیق بین الاقوامی سائنسی جرائد میں بھی شائع ہو چکی ہے۔ وہ سلوواکیہ، انڈیا اور ایران کے ماہرین کے ساتھ بھی مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ وہ پاکستان کے میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں متعدد سائنسی نمونے جمع کرا چکے ہیں۔

مدثر بصری کا کہنا ہے ’میری کوشش ہے کہ ہر سپیشیز کو مستند ڈیٹا کے ساتھ دستاویزی شکل دی جائے۔‘

اب تک وہ 30 اقسام کے بارے میں تفصیلی ڈیٹا مرتب کر چکے ہیں اور 80 سے زائد سانپوں پر مشتمل ایک جامع کتاب پر کام جاری ہے، جسے وہ عام فہم رکھنے کے لیے اردو زبان میں شائع کر رہے ہیں۔

مدثر بصری اپنی ساری تحقیق ذاتی آمدنی پر چلا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’میں مزدوری سے حاصل ہونے والی آمدن ہی اس کام پر خرچ کرتا ہوں، جو بہت مہنگا عمل ہے۔‘

سانپوں سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے انہوں نے ایک وٹس ایپ ہیلپ لائن بھی قائم کر رکھی ہے جہاں لوگ فوری طور پر سانپوں کی تصاویر بھیجتے ہیں۔

مدثر انہیں بتاتے ہیں کہ سانپ زہریلا ہے یا نہیں اور اسے محفوظ طریقے سے کیسے ہینڈل کرنا چاہیے۔

وہ مختلف سکولوں اور دیہی علاقوں میں جا کر لوگوں کو تربیت دیتے ہیں تاکہ لوگ خوف کے باعث سانپوں کو مارنے کی بجائے انہیں سمجھ سکیں۔

سانپ ماحولیاتی توازن کے لیے انتہائی اہم ہیں لیکن آگاہی نہ ہونے کے باعث اکثر انہیں بلاوجہ نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلوواکیہ کی کومینیئس یونیورسٹی سے وابستہ ماہر حیوانیات ڈاکٹر ڈینیئل جابلونسکی کے مطابق انہوں نے مدثر کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک تحقیق شائع کی ہے جس میں پاکستان میں جنس Elaphe کی پہلی سائنسی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔

ڈاکٹر جابلونسکی کے بقول ’مدثر ان چند پاکستانی محققین میں شامل ہیں جو سانپوں پر منظم اور سائنسی انداز میں کام کر رہے ہیں۔ ان کی تحقیق سے ملک میں ہرپیٹوفونا کے علم میں نمایاں اضافہ ہوگا۔‘

 

جنگلی حیات پر تحقیق کرنے والے عبدالرحمن بھی مدثر کے کام کو منفرد قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق ’میں خود دیگر انواع پر تحقیق کر رہا ہوں لیکن فیلڈ میں جا کر جس محنت اور مستقل مزاجی سے مدثر کام کرتے ہیں، وہ قابل تحسین ہے۔ میں اکثر ان سے رہنمائی لیتا ہوں۔‘

عبدالرحمن کے مطابق مدثر کی تحقیق نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *