کویتی وزیر خارجہ آج علاقائی صورت حال پر بات چیت کے لیے پاکستان پہنچیں گے

کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح آج، منگل کو، ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے، جہاں وہ علاقائی صورت حال اور باہمی امور پر اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کریں گے۔

 یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں توسیع سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق کویتی وزیر خارجہ یہ دورہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر کر رہے ہیں۔

وزارت خارجہ نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح اپنے دورے کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

روئٹرز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک توسیع شدہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کویت توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے بدلے پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

تاہم مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

پاکستان اور کویت کے درمیان 2023 سے دفاعی تربیت اور مشترکہ فوجی مشقوں کے حوالے سے محدود نوعیت کا دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

روئٹرز کے مطابق کویت اب پاکستان کے ساتھ سعودی عرب طرز کے وسیع دفاعی تعاون کا خواہاں ہے، جس میں پاکستانی فوجی دستوں، لڑاکا طیاروں، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور دیگر دفاعی سہولتوں کی ممکنہ فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان نئے علاقائی دفاعی معاہدوں میں دلچسپی دیکھی گئی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان ان معاہدوں کو ملکی معیشت کے لیے درکار سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے، جبکہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے تناظر میں متبادل دفاعی شراکت داروں پر بھی غور کر رہے ہیں۔

پاکستان خطے کی ان چند ریاستوں میں شامل ہے جو نہ صرف بڑی فوج رکھتی ہیں بلکہ اپنے لڑاکا طیارے بھی تیار کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے بعض خلیجی ممالک کے لیے پاکستان دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔

اس ماہ کویت کے وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر گفتگو میں ایران کی جانب سے جاری حملوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔

 تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون میں نمایاں توسیع ہوتی ہے تو مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالثی میں پاکستان کے کردار پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

دورے کے دوران کویتی وزیر خارجہ کی پاکستانی قیادت سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔

بشکریہ عرب نیوز


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *