جون اور جولائی میں مون سون کی آمد کے ساتھ کراچی کے ساحل پر رنگ برنگی سیپیوں کی بڑی تعداد نظر آنا معمول کا منظر ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سیپیاں صرف خوبصورتی کی علامت نہیں بلکہ سمندری ماحول کو صاف رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ کئی خاندانوں کی روزی روٹی بھی انہی سے وابستہ ہے۔
کراچی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنس میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب کیانی نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ سیپیوں والے یہ سمندری جاندار دیگر جانوروں سے مختلف ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’جس طرح انسان کا ڈھانچہ جسم کے اندر ہوتا ہے، اسی طرح ان جانوروں کا سخت خول ان کے جسم کے باہر ہوتا ہے، جو انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔‘
ڈاکٹر شعیب کیانی کے مطابق یہ جاندار فلٹر فیڈرز (Filter Feeders) ہیں، جو سمندر کے پانی کو اپنے جسم سے گزار کر اس میں موجود باریک نباتات، ننھے سمندری جاندار اور غذائی ذرات کو الگ کر کے خوراک حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’یہ عمل بالکل ایسے ہے جیسے چائے کو چھانا جاتا ہے۔ یہ پانی کو فلٹر کرتے ہیں، خوراک اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں اور نسبتاً صاف پانی دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیتے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق کراچی کے ساحلی پانیوں میں موجود آلودگی، صنعتی فضلہ، بھاری دھاتیں اور دیگر کیمیائی مادے بھی پانی کے ساتھ ان جانداروں کے جسم میں جمع ہوتے رہتے ہیں۔
بقول ڈاکٹر شعیب: ’یہ صرف اپنی خوراک حاصل نہیں کرتے بلکہ نقصان دہ آلودگی کو بھی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں، جس سے سمندر کا پانی کسی حد تک صاف رہتا ہے اور دیگر سمندری حیات کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا کے کئی ممالک میں ان سیپیوں کی بعض اقسام خوراک کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
مون سون کے دوران ساحل پر ان کی بڑی تعداد میں آمد کے حوالے سے ڈاکٹر شعیب کیانی کا کہنا تھا کہ یہ کسی غیر معمولی ماحولیاتی تبدیلی کی علامت نہیں بلکہ ایک قدرتی عمل ہے۔
انہوں نے بتایا: ’جنوب مغربی مون سون کے دوران سمندر سے خشکی کی جانب چلنے والی تیز ہوائیں اور طاقتور لہریں ان جانداروں کو ساحل تک لے آتی ہیں۔ جو جاندار مضبوط ہوتے ہیں وہ واپس جانے والی لہروں کے ساتھ سمندر میں لوٹ جاتے ہیں جبکہ کمزور جاندار ساحل پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔‘
دوسری جانب یہی موسم کراچی کے کئی خاندانوں کے لیے روزگار کا بہترین موقع بھی لے کر آتا ہے۔
ساحل سے سیپیاں جمع کر کے ان سے آرائشی اشیا تیار کرنے والی خاتون کاریگر کنور نے بتایا کہ ان کا پورا خاندان کئی نسلوں سے اسی پیشے سے وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا: ’جون اور خاص طور پر جولائی میں ہم ساحل سے بڑی مقدار میں سیپیاں جمع کرتے ہیں۔ مختلف علاقوں سے آنے والی ان سیپیوں کو اکٹھا کر کے گھروں میں محفوظ کر لیتے ہیں تاکہ سال بھر ان سے مختلف مصنوعات تیار کی جا سکیں۔‘
کنور کے مطابق وہ ہر سیزن میں تقریباً دس بوریاں سیپیاں جمع کرتی ہیں۔
بقول کنور: ’سیپیوں کو جمع کرنے کے بعد انہیں آگ پر گرم کر کے اچھی طرح صاف کیا جاتا ہے، پھر ان سے جھومر، فوٹو فریم، گفٹ آئٹمز، سجاوٹی سامان اور دستکاری کی دیگر مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ بعض اوقات ہم انہیں خام حالت میں بھی فروخت کرتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ یہ کام بظاہر آسان دکھائی دیتا ہے، مگر سیپیوں کو صاف کرنے اور انہیں قابلِ استعمال بنانے میں کافی محنت درکار ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمارے والدین اور دادا بھی یہی کام کرتے تھے، آج بھی ہمارے خاندان کی گزر بسر اسی ہنر سے وابستہ ہے۔‘
یوں کراچی کے ساحل پر مون سون کے موسم میں بکھرنے والی یہ رنگ برنگی سیپیاں صرف ساحل کی خوبصورتی میں اضافہ نہیں کرتیں بلکہ سمندری ماحول کو متوازن رکھنے، پانی کو قدرتی طور پر صاف کرنے اور ساحلی آبادی کے متعدد خاندانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔
