سری نگر سے تقریباً 125 کلومیٹر دور، لائن آف کنٹرول کے قریب، گریز ویلی واقع ہے۔ یہ جگہ پرسکون اور خوبصورت بلند پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔ یہاں درد شن نامی برادری آباد ہے۔ وہ لوگ جو نسلوں سے یہاں رہتے آئے ہیں اور قدیم شینا زبان بولتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ گریز کی وادی بھی بدل رہی ہے اور اس کی ثقافت کے کچھ حصے خطرے میں ہیں۔
مستان گاؤں میں، جو داور قصبے کے قریب ہے، ایک شخصیت اس ثقافت کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ ہیں بشیر احمد ٹیرو جو 50 سالہ سرکاری ہیلتھ ورکر ہیں۔ انہوں نے گھر کی دوسری منزل کو چھوٹے سے میوزیم میں تبدیل کر دیا ہے۔ وہ اسے ’درد شن میوزیم‘ کہتے ہیں۔
یہ سب ایک جذباتی لمحے سے شروع ہوا۔ ایک دن ان کی والدہ نے انہیں ایک پوٹلی دی جس میں 75 پرانی چیزیں تھیں۔ ہاتھ سے بنا کپڑا، پرانے برتن، روایتی زیورات اور ایک زنگ آلود گھڑی جو ان کی نانی کی تھی، جو گلگت میں رہتی تھیں۔ بشیر کے لیے یہ صرف چیزیں نہیں بلکہ یادیں تھیں۔
بشیر احمد کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف ایک میوزیم نہیں، یہ ہماری کہانی ہے۔ یہ چیزیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں۔‘
2021 سے اب تک، بشیر احمد نے علاقے بھر سے مزید چیزیں جمع کی ہیں۔ آج ان کے میوزیم میں 500 سے زیادہ نوادرات موجود ہیں جو کچھ لوگوں نے عطیہ کیے اور کچھ وہ خود مختلف جگہوں سے لے کر آئے۔
میوزیم میں روایتی کپڑے، لکڑی کے جوتے، کھیتی باڑی کے اوزاروں سمیت جڑی بوٹیاں بھی موجود ہیں جو پہلے دوا کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ شینا شاعر غلام رسول مشتاق کی شاعری بھی یہاں محفوظ ہے۔ ہر چیز گریز کی پرانی زندگی کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔
بشیر احمد کے بقول: ’میں چاہتا ہوں کہ نئی نسل اپنی جڑوں کو سمجھے۔ اگر ہم نے اب اسے محفوظ نہ کیا تو یہ سب ختم ہو سکتا ہے۔‘
بغیر کسی سرکاری مدد کے، بشیر احمد یہ کام اکیلے ہی کر رہے ہیں۔ میوزیم میں طلبہ، محققین، صحافیوں اور سیاحوں سمیت کئی لوگ آ چکے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’لوگ میرا ساتھ دے رہے ہیں۔ گریز کے مختلف علاقوں سے لوگ اپنی پرانی چیزیں لا کر مجھے دے رہے ہیں۔ اس سے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن بشیر کو تیزی سے بدلتی دنیا کی فکر بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’گریز میں جدید زندگی آ رہی ہے۔ یہ اچھی بات ہے، مگر اگر ہم نے دھیان نہ دیا تو ہم اپنی ثقافت کھو سکتے ہیں۔‘
بشیر کے لیے یہ کام کسی شہرت کے لیے نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک میں کر سکتا ہوں، میں اپنی ثقافت کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھوں گا۔‘
مقامی صحافی اشتیاق رسول کا کہنا ہے کہ اس میوزیم نے لوگوں کو اپنے ماضی سے جوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں نے یہاں آ کر اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ وہ کیسے رہتے تھے اور کیا استعمال کرتے تھے؟ یہ جگہ ہماری کمیونٹی کے لیے بہت اہم ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’حکومت کو بشیر کی مدد کرنی چاہیے اور اس میوزیم کو بہتر بنانا چاہیے تاکہ زیادہ لوگ یہاں آئیں اور سیکھیں۔‘
