سوچیے، اگر ایک مال بردار ٹرین استنبول سے روانہ ہو اور سمندر کے بجائے ریل کے ذریعے سعودی عرب پہنچ جائے تو؟ کیا سعودی عرب اور ترکی قدیم حجار ریلوے روٹ کو بحال کرنے جا رہے ہیں؟
یہ خیال اب صرف ایک تصور نہیں رہا، بلکہ دونوں ملک اسے حقیقت بنانے کی سمت قدم بڑھا رہے ہیں۔
ترکی اور سعودی عرب نے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جدید ٹرانسپورٹ نظام، لاجسٹکس سینٹرز اور ریلوے نیٹ ورک کو فروغ دینا ہے۔
لیکن سب سے دلچسپ منصوبہ وہ ممکنہ ریلوے رابطہ ہے جو مستقبل میں ترکی کو سعودی عرب سے جوڑ سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ منصوبہ اتنا اہم کیوں ہے؟
اس وقت خطے کی بڑی تجارتی سرگرمیاں سمندری راستوں پر انحصار کرتی ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز پر، جہاں سے دنیا کی بڑی تعداد میں تجارت اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔
اگر ترکی، عراق اور سعودی عرب کے درمیان ایک مضبوط ریلوے راہداری قائم ہو جاتی ہے تو تاجروں کو ایک متبادل زمینی راستہ میسر آ سکتا ہے، جس سے نقل و حمل تیز اور بعض صورتوں میں سستی بھی ہو سکتی ہے۔
ترک وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوغلو کے مطابق یہ تعاون صرف ریل کی پٹریوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں جدید ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی بھی شامل ہوگی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب سعودی وزیر ٹرانسپورٹ صالح الجاسر کا کہنا ہے کہ یہ معاہدے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔
اس منصوبے کو کہاں تک توسیع دی جائے گی؟
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ مستقبل میں اس ریلوے نیٹ ورک کو عمان تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں ایک نیا تجارتی کوریڈور وجود میں آ سکتا ہے، جو یورپ، ترکی اور خلیجی ممالک کو پہلے سے زیادہ قریب لے آئے گا۔
اگرچہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن اس نے ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں مال بردار جہازوں کے ساتھ ساتھ ریل گاڑیاں بھی خطے کی تجارت کا نیا چہرہ بن جائیں گی؟
اور کیا ترکی اور سعودی عرب مل کر مشرق وسطیٰ کے تجارتی نقشے کو ازسرِ نو ترتیب دینے جا رہے ہیں؟
وقت اس کا جواب دے گا، لیکن ایک بات واضح ہے کہ خطے میں رابطوں اور تجارت کی نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔
