انڈیا میں نوجوانوں کی زیر قیادت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کارکن سونم وانگ چک کو ہفتے کو ان کی بھوک ہڑتال کے دوران زبردستی ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد پارلیمنٹ کی جانب اپنا طے شدہ مارچ جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔
لداخ سے تعلق رکھنے والے 59 سالہ انجینیئر، تعلیمی اصلاح کار اور ماحولیاتی کارکن وانگ چک 28 جون کو احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔ وہ 21 دن سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے جب دلی پولیس نے ہفتے کی صبح انہیں دارالحکومت میں احتجاج کے لیے مختص مقام جنتر منتر سے ہٹا کر سرکاری ہسپتال صفدر جنگ میں داخل کرا دیا۔
پولیس نے کہا کہ یہ فیصلہ طبی مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کے اس سابقہ حکم کے مطابق کیا گیا جس میں حکام کو وانگ چک کی صحت کی نگرانی کرنے اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کی ہدایت کی گئی تھی۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ 59 سالہ کارکن ’طویل فاقے اور پانی کی کمی کی وجہ سے کمزور‘ ہو گئے ہیں اور اگرچہ ان کی حالت مستحکم ہے، تاہم ’ان کے جسمانی افعال کی بحالی کے لیے مسلسل نگرانی، معائنے اور علاج کی ضرورت ہے۔‘
وانگ چک کی اہلیہ گیتا نجلی جے انگمو نے اب انہیں نجی ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ان کے فلور پر ’تقریباً 30 پولیس اہلکار‘ اور ’پورے ہسپتال میں 100 سے کہیں زیادہ‘ موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندان کی نقل و حرکت ’سخت محدود‘ تھی۔
انہوں نے لکھا کہ ’یہ طبی نگہداشت نہیں ہے۔ یہ غیر قانونی حراست ہے۔‘
سی جے پی نے وانگ چک کو احتجاج کے مقام سے ہٹانے کے پولیس اقدام کو ’اغوا‘ قرار دیا ہے، اور اتوار کو جنتر منتر پر مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی، جہاں داخلے کے لیے لمبی قطاریں لگ گئیں۔
وان گچک کو ہٹائے جانے کے بعد آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کے ارکان اور طلبہ کے تین کارکنوں نیہا بورا، امین اور منیش نے اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھی۔
اے آئی ایس اے کے سابق صدر این سائی بالاجی نے کہا کہ پولیس کارروائی کے باوجود یہ تینوں جنتر منتر پر ہی موجود رہیں گے۔
امتحاننی پرچے مبینہ طور پر افشار ہونے پر شروع ہونے والی یہ احتجاجی تحریک، جس سے میڈیکل کے تقریباً 23 لاکھ امیدوار متاثر ہوئے، انڈیا کے وزیر تعلیم دھرمیندر پڑدھان کے استعفے کے ساتھ ساتھ ملک کے امتحانی نظام میں وسیع تر اصلاحات اور امتحانی تنازعے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
مظاہرین نے حکام پر الزام لگایا کہ وانگ چک کو ہسپتال منتقل کرنے کا مقصد پیر کو پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے دن سی جے پی کے طے شدہ ‘سنسد چلو’ (پارلیمنٹ کی جانب مارچ) سے قبل تحریک کا زور توڑنا تھا۔
مسٹر وانگچک کو لے جائے جانے کے بعد، سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ‘عزم اور یہ تحریک یہاں سے مزید مضبوط ہی ہوں گے’، انہوں نے مزید کہا کہ پیر کا مارچ اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وانگ چک نے اتوار کو اپنی اہلیہ اور اپنے وکیل کپل سبل کے ذریعے اپنے بیانات جاری کیے، جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ ’علاج چاہتے ہیں، لیکن اپنی پسند کا۔‘
ہسپتال سے اپنی اہلیہ کو دیے گئے ہاتھ سے لکھے ایک پیغام کے ذریعے، انہوں نے پیر کی طے شدہ مہم کو ’انڈیا کی دوسری تحریک آزادی‘ قرار دیا۔
انہوں نے لکھا، ’ناانصافی (جیسے پرچے لیک ہونے) سے آزادی۔ خوف (میری غیر قانونی حراست) سے آزادی۔ پارلیمنٹ کی جانب مارچ۔ براہ کرم اسے ایک بڑی کامیابی بنائیں۔‘
پیر کے طے شدہ مارچ سے قبل دلی پولیس نے وسطی دہلی بھر میں سکیورٹی سخت کر دی ہے، دارالحکومت کے انتظامی مرکز سینٹرل وسٹا، جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے گرد اضافی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں، جبکہ گاڑیوں کی چیکنگ اور نگرانی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق، جنتر منتر پر احتجاجی مقام کے دونوں اطراف اور پنڈال کے اندر 100 سے زائد پولیس اہلکار اور ریپڈ ایکشن فورس کے دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
اتوار کو سی جے پی نے الزام لگایا کہ علاقے میں آنسو گیس کی بندوقیں لائی گئی تھیں اور دلی پولیس پر احتجاج میں خلل ڈالنے کی تیاری کا الزام عائد کیا۔
ایک سینیئر پولیس افسر نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ ’ضلع نئی دہلی میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کی مکمل چیکنگ کی جائے گی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکام پارلیمنٹ کی جانب کسی بھی غیر مجاز مارچ کی اجازت نہیں دیں گے۔
پولیس ذرائع نے اے این آئی کو بتایا کہ سی جے پی نے مظاہرے کے لیے اجازت نہیں مانگی تھی اور اگر درخواست دی بھی جاتی تو اس کے منظور ہونے کا امکان نہیں تھا کیوں کہ پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس جاری ہوگا۔
سی جے پی کی ترجمان ویشنوی گوڑ نے اس دعوے کی تردید کی اور ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ گروپ نے پولیس کو اپنے منصوبوں سے ’بہت پہلے‘ آگاہ کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ مارچ اور ہمارے منصوبوں کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ بہر حال، وہ ہمیں اجازت نہیں دیں گے۔‘
گروپ نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ احتجاج اور مارچ پرامن رہیں۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر ڈپکے نے لکھا: ’جو کوئی بھی کسی قسم کا خلل ڈالتا ہے یا منفی نعرے لگاتا ہے وہ سونم سر یا سی جے پی کا حامی نہیں ہو سکتا۔‘
ہفتے کو ایکس پر ایک پوسٹ میں، کانگریس رہنما راہل گاندھی نے نریندر مودی کی حکومت پر پرامن اختلاف رائے کو دبانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ’استیہ‘ (جھوٹ) اور ’ہِنسہ‘ (تشدد) کے اصولوں پر قائم ہے۔
راہل گاندھی نے لکھا کہ ’سونم وانگچک کو اس وقت زبردستی ہٹانا غلط ہے جب وہ پرامن بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔‘
مظاہروں میں شامل ہونے والی سیاسی جماعت سوراج انڈیا کے بانی یوگیندر یادو نے کہا: ’حکومت کا خیال تھا کہ وانگچک جی کو اٹھانے سے احتجاج دم توڑ دے گا لیکن تکنیکی طور پر، احتجاج کی ہوا نہیں نکلی، حکومت کی ہوا نکل گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ طے شدہ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے۔
تحریک کی بڑھتی ہوئی حمایت کے باوجود، وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے حوالے سے مظاہرین کے بنیادی مطالبات پر عوامی سطح پر کوئی ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ دیا ہے کہ وہ سی جے پی رہنماؤں سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
