امریکہ کے ایران پر مزید حملے، زیر تعمیر ’جوہری بجلی گھر کو نشانہ‘ بنایا گیا

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار کو مسلسل نویں رات ایران میں فضائی حملے کیے جن میں ایرانی فوج کے ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون لانچنگ مقامات، بحری صلاحیتوں اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق امریکی حملوں میں جنوب مغربی ایران میں زیر تعمیر ایک مجوزہ جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا کہ جب اس نے آخری مرتبہ اس مقام کا معائنہ کیا تھا تو وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا اور منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔

جبکہ ایران نے اردن کی جانب میزائل فائر کیے، جس سے تنازع کے اسرائیل سمیت مزید ممالک تک پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

گذشتہ ماہ ہونے والا عبوری معاہدہ، جس کا مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ تھا، ناکام ہونے کے بعد امریکہ اور ایران آہستہ آہستہ مکمل جنگ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بڑی حد تک رک چکی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہے، جس سے عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

مزید ایک امریکی فوجی مارا گیا

امریکی فوج کے مطابق ایک اور امریکی فوجی عراق میں ہفتے کے روز ایرانی ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران مارا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’ہم نے آج رات انہیں ایک بار پھر بہت سخت نشانہ بنایا، اور یہ ہم نے اپنے مارے جانے والے فوجیوں کے اعزاز میں کیا۔‘

امریکی فوج کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک 17 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

ایران میں نئے حملے

امریکی فوج نے بتایا کہ حالیہ حملوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (ریولوشنری گارڈ) کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ملک کے جنوبی اور شمال مغربی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، تاہم جانی و مالی نقصان کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسی دوران آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔ برطانوی فوج نے واقعے کی تصدیق کی، مگر آگ لگنے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی۔ بعد میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایران کے جوابی حملے

ایران نے امریکہ کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بحرین، اردن اور کویت نے ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنی فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بحرین میں امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا کہ ایران دارالحکومت منامہ کے وسطی علاقوں میں بعض مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔

اسرائیل نے بھی خبردار کیا کہ اردن کی جانب داغے گئے ایرانی میزائل اسرائیلی حدود میں گر سکتے ہیں۔ اسرائیلی شہر ایلات کے نزدیک دو انٹرسیپٹر میزائل فائر کیے گئے تاکہ ممکنہ ملبے کو گرنے سے روکا جا سکے۔

اردن اور خلیجی ممالک بھی نشانے پر

اردن کی فوج نے بتایا کہ اس نے کئی ایرانی میزائل مار گرائے۔ کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعد ازاں اردن نے احتجاج کے لیے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا۔

کویت نے کہا کہ ملک کے ایک بجلی اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو دو دن میں دوسری بار نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ لگ گئی۔ تاہم حکام کے مطابق بجلی کا نظام مستحکم ہے۔ کویت میں تقریباً 90 فیصد پینے کا پانی ڈی سیلینیشن پلانٹس سے حاصل ہوتا ہے۔

خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ایران پر شہری انفراسٹرکچر اور عوامی سہولتوں کو نشانہ بنانے کے باعث جنگی جرائم کا الزام عائد کیا۔

آبنائے ہرمز تنازع کا مرکز

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے ہی ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکے ہیں تاکہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ کم کرے۔ جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔

امریکہ نے گذشتہ ہفتے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی تھی تاکہ ایران کی خام تیل کی برآمدات روکی جا سکیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک چھ جہازوں کا رخ موڑ دیا اور ایک جہاز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 517 زخمی ہوئے ہیں، تاہم مجموعی فوجی نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

اس جنگ کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا کے کئی غریب اور کمزور ممالک کو شدید متاثر کیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *