آسٹریلیا کے شہر برسبین کی رہائشی جینیٹر نااموانا نے چار ایک جیسی بچیوں کو جنم دیا ہے، جسے ڈاکٹروں نے دنیا کی نایاب ترین پیدائشوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
اے بی سی نیوز کے مطابق جینیٹر نااموانا اور ان کے شوہر جورتھم کی بیٹیاں، ایملی، ہیریئٹ، الیکسا اور کیتھرین، گذشتہ ہفتے رائل برسبین اینڈ وومنز ہسپتال میں حمل کے 28 ہفتے اور چار دن مکمل ہونے پر سیزیرین آپریشن کے ذریعے پیدا ہوئیں۔
چاروں بچیاں صحت مند ہیں، تاہم قبل از وقت پیدائش کے باعث انہیں نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا ہے۔
یہ چاروں بچیاں ایک ہی بار بارآور ہونے والے تولیدی مادے سے وجود میں آئیں، جو حمل کے ابتدائی مرحلے میں چار الگ الگ جنینوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام بچیاں ایک ہی نال (پلیسنٹا) کا اشتراک بھی کر رہی تھیں، جو طبی ماہرین کے مطابق غیرمعمولی حد تک نایاب واقعہ ہے۔
جینیٹر اور جورتھم کے پہلے ہی ایک سے 10 برس عمر کے درمیان چار بچے موجود تھے۔ ان کے مطابق وہ مزید بچوں کا ارادہ نہیں رکھتے تھے، مگر پھر یہ غیرمتوقع حمل ٹھہر گیا۔
چاروں بچیوں کا پیدائشی وزن یہ تھے: ایملی: 1025 گرام، ہیریئٹ: 1121 گرام، الیکسا: 1120 گرام اور کیتھرین: 1151 گرام تھا۔ کیتھرین چاروں میں سب سے زیادہ وزنی تھیں۔
جینیٹر نااموانا نے مالی معاونت کے لیے قائم کیے گئے ’گو فنڈ می‘ صفحے پر لکھا: ’ہمارے قیمتی معجزے بحفاظت دنیا میں آ گئے ہیں۔ ہمارا دل شکرگزاری سے بھر گیا ہے، لیکن ایک ہی وقت میں چار نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال ایسی آزمائش ہے جس کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘
چونتیس سالہ جینیٹر کی حمل کے ابتدائی دنوں سے دیکھ بھال کرنے والی ماہر امراضِ نسواں اور مادری و جنینی طب کی ماہر ڈاکٹر الیکسا بینڈال نے کہا کہ یہ حمل ’انتہائی زیادہ خطرات‘ سے بھرپور تھا۔
ان کے مطابق جب متعدد بچے، خصوصاً ایک ہی نال کا اشتراک کرتے ہوں، تو پیچیدگیوں کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈاکٹر بینڈال نے وضاحت کی: ’بچوں کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، نال میں خون کی رگیں آپس میں جڑی ہوتی ہیں، اور اگر خون کی روانی میں توازن نہ رہے تو انتہائی سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں بچوں اور ماں دونوں کے لیے اموات اور بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ 28 ہفتے اور چار دن پر چار صحت مند بچیوں کی پیدائش ’ناقابلِ یقین کامیابی‘ ہے۔
ڈاکٹر بینڈال کے مطابق شروع سے ہی ہدف یہ تھا کہ جینیٹر کو کم از کم 28 ہفتوں تک حمل برقرار رکھنے میں کامیابی مل جائے۔
’ہم ہمیشہ کہتے تھے کہ اگر ہم انہیں 28 ہفتوں تک لے جا سکے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی، اس لیے ہمیں خوشی ہے کہ وہ اس مرحلے تک پہنچ سکیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’انہوں نے کسی نہ کسی طرح ہر پیچیدگی اور خطرے سے خود کو اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھا، اور آج ہمارے سامنے چار خوبصورت نوزائیدہ بچیاں موجود ہیں۔ یہ واقعی بہت خاص ہیں۔‘
ڈاکٹر بینڈال کے مطابق ’مونوزائیگوٹک کواڈرپلیٹس‘ (Monozygotic Quadruplets) اس حالت کو کہتے ہیں جب ایک ہی بارآور انڈہ چار الگ جنینوں میں تقسیم ہو جائے۔
ان کے بقول اس طرح کے حمل کا امکان تقریباً ہر ڈیڑھ کروڑ (15 ملین) حمل میں ایک بار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا: ’اور ایک ہی نال کا اشتراک کرنا تو ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہم نے تقریباً کبھی نہیں سنا۔ ہمارا خیال ہے کہ آسٹریلیا میں اس سے پہلے ایسا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔‘
’دنیا کے دوسرے حصوں میں شاید ایک دو مثالیں موجود ہوں، اور جب میں ایک دو کہتی ہوں تو اس کا مطلب واقعی صرف دو کیس ہیں۔‘
جینیٹر نااموانا کو گذشتہ ماہ ہسپتال میں داخل کر لیا گیا تھا تاکہ زچگی سے قبل ان کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔
ڈاکٹر بینڈال کا کہنا ہے کہ بچیوں کو گھر جانے سے پہلے کافی عرصہ نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں رہنا پڑے گا تاکہ وہ مزید مضبوط اور صحت مند ہو سکیں۔
تاہم ان کے مطابق: ’طویل مدت میں ان کے مستقبل کے امکانات بہت اچھے دکھائی دیتے ہیں۔‘
ڈاکٹر بینڈال نے یہ بھی کہا کہ وہ خود کو بے حد خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ خاندان نے اپنی ایک بیٹی کا نام ان کے نام پر ’الیکسا‘ رکھا۔
ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر جینو پیکورارو کے مطابق عمومی طور پر چار بچوں کی پیدائش تقریباً ہر سات لاکھ حملوں میں ایک بار ہوتی ہے، جبکہ ایک جیسے چار بچوں کی پیدائش تقریباً ہر ڈیڑھ کروڑ حملوں میں ایک بار وقوع پذیر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا: ’اصل بڑی بات یہ ہے کہ چاروں بچے زندہ ہیں اور اچھی حالت میں ہیں۔ یہ واقعی شان دار خبر ہے۔‘
اس خاندان نے ’گو فنڈ می‘ کے ذریعے عطیات کی اپیل بھی کی ہے تاکہ کم از کم 10 یا 12 نشستوں والی بڑی وین، بچوں کی ضروری اشیا، اور طبی، سفری و روزمرہ اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
جینیٹر نااموانا نے اپنے پیغام میں لکھا: ’اگر آپ ہمارے خاندان کی مدد کر سکتے ہیں تو کوئی بھی عطیہ چھوٹا نہیں ہوتا، ہر تعاون حقیقی فرق ڈالے گا۔‘
