پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے معاملے کو صوبائی مالی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اپنے خطاب بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ لیوی این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی ہے کیونکہ اس کا پورا ریونیو وفاق اپنے پاس رکھتا ہے جبکہ صوبوں کو ان کا حصہ نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ لیوی ابتدا میں عارضی ضرورت کے طور پر متعارف کرائی گئی تھی مگر آج بھی مسلسل وصول کی جا رہی ہے، جس کے باعث صوبے اپنے آئینی مالی حقوق سے محروم ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے مطابق این ایف سی فارمولے کے تحت اس آمدن کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم ہونا چاہیے تھا، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا۔
بلاول بھٹو نے مجموعی طور پر وفاقی مالی ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے پہلے ہی قومی معاشی استحکام کے لیے اپنی ترقیاتی گنجائش محدود کر رہے ہیں اور بجٹ سرپلس دکھا کر مرکز کو سہارا دے رہے ہیں۔
ان کے بقول یہ ایک ’خاموش قربانی‘ ہے جو صوبے قومی مفاد میں دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب نے گذشتہ سال 700 ارب روپے اور رواں سال 900 ارب روپے کا سرپلس دیا، جو اگر دستیاب ہوتا تو مقامی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح دیگر صوبے بھی مالی دباؤ کے باوجود قومی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے زور دیا کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان مالی توازن کو آئینی اصولوں کے مطابق بحال کرنا ضروری ہے تاکہ اعتماد میں کمی نہ آئے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے اس سکیم کو معاشی اور قومی سلامتی کا اہم منصوبہ قرار دیا۔
انہوں نے اس پروگرام پر ہونے والی تنقید کو ’افسوس ناک اور شرمناک‘ قرار دیا اور اس کے خاتمے یا محدود کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بی آئی ایس پی کی کامیابی کو عالمی اداروں نے تسلیم کیا ہے اور دنیا اسے ایک مؤثر سماجی تحفظ کا پروگرام سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کو کم کرنے کے بجائے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نشانہ بنانا افسوسناک اور شرمناک ہے اور یہ کہ معاشی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت تک پائیدار ترقی نہیں کر سکتی جب تک مزدور اور کسان کی حالت بہتر نہ ہو۔ ان کے مطابق ’جب مزدور ترقی کرے گا تو ملک ترقی کرے گا، اور جب کسان ترقی کرے گا تو زراعت مضبوط ہوگی۔‘
بلاول نے ملک کی مالی صورت حال پر بات کرتے ہوئے قرضوں پر بڑھتے انحصار پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اب بھی اپنے بجٹ اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل قرض لے رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے خطے میں امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور پرامن حل کی حمایت کی ہے کیونکہ غیر یقینی صورت حال کا براہ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق امن کے بغیر نہ سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے حالیہ علاقائی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان کی سرحدی سکیورٹی، انڈیا کی دھمکیوں اور سندھ طاس معاہدے پر نئی دہلی کے مؤقف کو چیلنجز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان چیلنجز کا جواب سیاسی اتحاد اور جمہوری روایات کے ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفاق اور صوبوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی دباؤ کے باوجود دفاع اور قومی سلامتی کے اخراجات کو مشترکہ طور پر برداشت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق صوبے پہلے ہی ترقیاتی بجٹ میں قربانیاں دے کر قومی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔
انہوں نے سابق فاٹا کے انضمام کے باوجود وہاں ترقیاتی وعدوں پر عمل نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان علاقوں کو اب بھی مناسب آئینی اور مالی حقوق نہیں مل رہے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی دفاعی ضروریات پر اتفاق ایک مثبت پیش رفت ہے۔
بعد ازاں بلاول نے گلگت بلتستان کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی نے وہاں 11 نشستیں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے جی بی کے عوام کو پاکستان کے انتہائی محب وطن شہری قرار دیا اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کا عزم دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کر کے پاکستان سے الحاق کیا تھا لیکن آج بھی انہیں مکمل آئینی حقوق حاصل نہیں۔ ان کے مطابق اس مسئلے کا حل قومی اتفاق رائے اور پارلیمانی نمائندگی میں ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ ملک کو معاشی استحکام، سماجی انصاف اور سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی اور امن کا سفر آگے بڑھایا جا سکے۔
