وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا جمعے کو جنیوا کا مجوزہ دورہ منسوخ ہو گیا ہے۔
اسحاق ڈار نے انڈپینڈنٹ اردو کو مزید بتایا کہ ’امریکہ اور ایران کے صدور کے دستخط کے بعد، اور پھر بطور ثالث وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دستخط کے ساتھ، آج صبح معاہدے پر ریموٹ طریقے سے دستخط مکمل ہو گئے ہیں، جس کے باعث کل کی طے شدہ تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔‘
اس سے قبل شہباز شریف کو آج ایران اور امریکہ کے درمیاں ’اسلام آباد مفاہمت کی داشت‘ پر دستخط کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہونا تھا۔
تاہم جمعرات کو ہی وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے۔
اس مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقعے پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جبکہ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ تصویر میں صدر مسعود پزشکیان کو مفاہمت کی یادداشت کی دستخط شدہ دستاویز تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کا رابطہ
بعد ازاں جمعرات کو ہی وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے حالیہ اسلام آباد امن معاہدے کے بعد دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق یہ رابطہ امن معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ تھا، جو تیس منٹ سے زائد جاری رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر، قیادت اور عوام کو تاریخی امن معاہدے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں امن کے قیام اور ایران کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Islamabad :18 June 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif received a telephone call from His Excellency Dr. Masoud Pezeshkian, President of the Islamic Republic of Iran, this afternoon, that lasted over thirty minutes.
This was the first contact between the two leaders… pic.twitter.com/ukkFWYy975
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) June 18, 2026
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنے گا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا۔ وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے ایران کے امن معاہدے پر دستخط کے فیصلے کو سراہتے ہوئے آئندہ مذاکراتی مرحلے میں کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان بطور برادر اور ہمسایہ ملک ہر سطح پر ایران کی حمایت جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ثالثی کے عمل میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا، جسے ایران ہمیشہ یاد رکھے گا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان کی حمایت قابلِ قدر ہے اور ایران پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے پاکستان کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ جلد ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ دوطرفہ اور علاقائی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے، جبکہ آئندہ دنوں میں مسلسل رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
