پنجاب حکومت نے مون سون بارشوں کے دوران شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ پر قابو پانے کے لیے صوبے کے مختلف شہروں میں زیر زمین پانی ذخیرہ کرنے کے بڑے ٹینک تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔
حکام کے مطابق لاہور میں 18 جبکہ دیگر شہروں میں ابتدائی مرحلے میں نو زیر زمین ٹینک تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن میں سے بیشتر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی آخری مراحل میں ہیں۔
مون سون کے دوران پنجاب کے کئی شہری علاقے شدید بارشوں کے باعث زیر آب آ جاتے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے جبکہ کئی روز تک پانی کھڑا رہنے سے معمولات زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کلاوڈ برسٹ جیسے واقعات میں اضافے نے شہری انتظامیہ کے لیے نئے چیلنج پیدا کر دیے ہیں۔
پنجاب ڈیویلپمنٹ پروگرام کے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر قیصر رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے بڑے شہروں میں زیر زمین پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
ان کے مطابق فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال اور اوکاڑہ میں پہلے مرحلے کے تحت نو زیر زمین ٹینکوں کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ ان ٹینکوں کی مجموعی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 10 لاکھ گیلن ہو گی۔
انہوں نے بتایا کہ جمع شدہ پانی بعد میں ہارٹی کلچر اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ مزید یہ کہ جن علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح کم ہو چکی ہے، جیسے ملتان اور ساہیوال، وہاں جدید نظام کے ذریعے اس پانی کو دوبارہ زمین میں جذب کیا جا سکے گا۔
واسا لاہور کے ایکسئین عمر ایوب کے مطابق لاہور میں 18 زیر زمین ٹینکوں کا منصوبہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ 13 ٹینک پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ لکشمی چوک سمیت مزید تین ٹینک رواں مون سون سے قبل مکمل ہو جائیں گے۔ ان ٹینکوں میں لاکھوں گیلن بارش کا پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔
عمر ایوب کے مطابق یہ ٹینک ان علاقوں میں تعمیر کیے گئے ہیں جہاں ماضی میں مون سون کے دوران کئی فٹ پانی جمع ہو جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس سال لکشمی چوک جیسے مقامات پر، جہاں پہلے دو سے تین فٹ تک پانی کھڑا رہتا تھا، صورت حال میں واضح بہتری آئے گی اور ٹریفک کی روانی بھی متاثر نہیں ہو گی۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال سیالکوٹ، نارووال اور جہلم سمیت کئی علاقوں میں شدید بارشوں اور اربن فلڈنگ کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ بعض متاثرہ خاندان عارضی طور پر اپنے گھروں سے نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے تھے۔
حکومت کو امید ہے کہ نئے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے مستقبل میں ایسے حالات کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
