کراچی: سینیئر صحافی کے بیٹے اور نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لاپتہ، مقدمہ درج

کراچی میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ’نادرا‘ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد جنجھی پیر کی شام دفتر سے نکلنے کے بعد پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے، جس کے بعد گلبرگ تھانے میں دفعہ 365 ’اغوا‘ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

فیاض احمد جنجھی سینیئر صحافی اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ’ایچ آر سی پی‘ کی کونسل کے رکن سہیل سانگی کے صاحبزادے اور سینیئر صحافی ریاض سہیل کے بھائی ہیں۔

سہیل سانگی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے بیٹے کراچی کے علاقے عائشہ منزل میں واقع نادرا کے دفتر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر تعینات ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’پیر کی شام تقریباً چھ بجے وہ اپنی گاڑی میں دفتر سے روانہ ہوئے، لیکن اس کے بعد گھر نہیں پہنچے۔ ہم نے مسلسل ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر ان کا موبائل فون بند ملا۔‘

ان کے مطابق اہل خانہ نے نادرا کے دفتر سے بھی رابطہ کیا، جہاں ساتھیوں نے بتایا کہ فیاض احمد جنجھی معمول کے مطابق شام چھ بجے کے قریب دفتر سے روانہ ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

سہیل سانگی کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کے خلاف نہ کوئی انکوائری جاری تھی اور نہ ہی ان کی کسی سے ذاتی دشمنی تھی۔

دوسری جانب گلبرگ تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق فیاض احمد جنجھی 20 جولائی کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے سے لاپتہ ہیں۔ مقدمہ دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو اغوا سے متعلق ہے۔

پولیس کو دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ نے ہر ممکن جگہ تلاش اور رابطے کی کوشش کی، تاہم ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیاض احمد جنجھی یا ان کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں، لہٰذا پولیس انہیں فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرائے۔

اہل خانہ نے یہ بھی شکوہ کیا کہ ان کے بیٹے کی گمشدگی کے باوجود نادرا کی جانب سے خاطر خواہ تعاون نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ’محکمے نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ان کے ایک افسر لاپتہ ہیں، لیکن ادارے کی جانب سے نہ کوئی مدد کی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر کوشش نظر آ رہی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے اس بارے میں نادرا سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

آئی جی سندھ پولیس کے ترجمان سید سعد علی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انسپیکٹر جنرل سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ہدایت پر سندھ پولیس سینیئر صحافی سہیل سانگی سے مسلسل رابطے میں ہے۔

بیان کے مطابق متعلقہ پولیس یونٹس نے اہل خانہ سے تمام ضروری معلومات حاصل کر لی ہیں اور فیاض احمد جنجھی کی تلاش کے لیے مختلف پہلوؤں سے اقدامات جاری ہیں، جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی اس معاملے کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور متعلقہ افسران کو فوری اور مؤثر کارروائی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ترجمان کے مطابق سندھ پولیس، سہیل سانگی، ان کے اہل خانہ، صحافی برادری، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ حلقوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتی ہے۔

اس بارے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فیاض احمد جنجھی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے ان کی محفوظ اور فوری بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *