ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر گیری سوبرز، جنہیں تاریخ کے عظیم ترین کرکٹرز میں شمار کیا جاتا ہے، 89 برس کی عمر میں چل بسے۔
بارباڈوس میں پیدا ہونے والے اس کھلاڑی نے 1954 اور 1974 کے درمیان 93 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا، جن میں انہوں نے 8,032 رنز بنائے اور 235 وکٹیں حاصل کیں۔
ویسٹ انڈیز کرکٹ نے جمعے کو ایکس پر ان کی ایک تصویر پوسٹ کی کیا جس کا عنوان تھا ’لیجنڈ، آئیکون، ہیرو۔‘
پوسٹ میں مزید کہا کہ ’ایک عظیم اننگز اختتام کو پہنچ گئی۔ ہمارے دل میں، اب اور ہمیشہ کے لیے، سر گارفیلڈ سوبرز۔‘
ہر فن مولا سمجھے جانے والے گیری سوبرز بائیں ہاتھ کے عمدہ بلے باز تھے جو سپن اور سیم باؤلنگ کر سکتے تھے، اور وہ ایک غیر معمولی فیلڈر تھے۔
انہوں نے 1954 میں انگلینڈ کے خلاف 17 سال کی عمر میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔
21 سال کی عمر میں گیری سوبرز نے پاکستان کے خلاف 365 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر ٹیسٹ میں سب سے زیادہ انفرادی سکور کا لین ہٹن کا ریکارڈ توڑ دیا۔
یہ میچ 26 فروری سے چار مارچ 1958 تک جمیکا کے شہر کنگسٹن کے سبینا پارک میں کھیلا گیا۔
ان کا یہ ریکارڈ اس وقت تک قائم رہا جب 1994 میں ویسٹ انڈیز کے ایک اور عظیم کھلاڑی برائن لارا نے انگلینڈ کے خلاف 375 رنز بنائے، اور اس موقع پر جشن منانے کے لیے سوبرز بھی وہاں موجود تھے۔
اس آل راؤنڈر کی ٹیسٹ کرکٹ میں بلے بازی کے ساتھ 57.78 اور گیند کے ساتھ 34.03 کی شاندار اوسط رہی۔
انہوں نے 1965 اور 1972 کے درمیان 39 ٹیسٹ میچوں میں ویسٹ انڈیز کی قیادت بھی کی، جن میں سے نو میں فتح حاصل کی اور 10 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
غیر معمولی کارناموں سے بھرپور اپنے کیریئر میں، سوبرز فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک اوور میں چھ چھکے لگانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے، انہوں نے یہ کارنامہ ناٹنگھم شائر کی طرف سے کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے ہوئے گلیمورگن کے میلکم نیش کے خلاف انجام دیا۔
انہیں آسٹریلیا کے عظیم کھلاڑی ڈونلڈ بریڈمین، جیک ہابز، ویو رچرڈز اور شین وارن کے ساتھ وزڈن کے 20ویں صدی کے پانچ بہترین کرکٹرز میں سے ایک کے طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔
آنجہانی بریڈمین نے سوبرز کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: ‘میری رائے میں، وہ تاریخ کے سب سے عظیم کرکٹر ہیں۔’
’بلند پایہ شخصیت‘
ویسٹ انڈیز کے سی ای او کرس ڈیرنگ نے سوبرز کو ’بلند پایہ شخصیت قرار دیا جن کا ہمارے کھیل اور ہمارے خطے پر اثر جتنا بھی بیان کیا جائے، کم ہے۔‘
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’سر گارفیلڈ دنیا کے اب تک کے سب سے بڑے آل راؤنڈر کرکٹر سے کہیں بڑھ کر تھے۔
’وہ اپنی بہترین شکل میں ویسٹ انڈیز کرکٹ کا عملی نمونہ تھے۔ نڈر، شاندار، جدت پسند اور بلا جھجھک بہترین۔ ان کی غیر معمولی کامیابیوں نے کھیل کے انداز کو بدل دیا اور کرکٹرز کی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔‘
The BCCI mourns the passing of Sir Garfield Sobers, a true icon of the game and one of cricket’s greatest-ever all-rounders.
His extraordinary achievements, lasting influence on Caribbean cricket and immeasurable contribution to the global game have left an enduring legacy that… pic.twitter.com/5263SNLezn
— BCCI (@BCCI) July 17, 2026
نوٹنگھم شائر نے اپنے سابق کھلاڑی کو ’کرکٹ کی تاریخ کا سب سے عظیم آل راؤنڈر‘ اور کلب کی تاریخ کی ایک مشہور شخصیت قرار دیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین جے شاہ نے کہا کہ کھیل ’اپنے ایک آئیکون‘ سے محروم ہو گیا ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’سر گارفیلڈ سوبرز نہ صرف کھیل کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈر تھے، بلکہ تاریخ کے عظیم ترین کرکٹرز میں سے ایک تھے۔
‘کھیل کے ہر پہلو میں میچ پر اثر انداز ہونے کی ان کی غیر معمولی صلاحیت نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کیا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انگلینڈ کرکٹ نے ایکس پر پوسٹ کیا: ’یہ کھیل کھیلنے والے اب تک کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک۔ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، سر گارفیلڈ سوبرز۔‘
انگلینڈ کے سابق بلے باز جیفری بائیکاٹ نے سوبرز کی تعریف میں انہیں ’ایک چیتے کی مانند قرار دیا جس کی چال بامقصد، لمبے قدموں والی اور پر اعتماد تھی۔‘
انہوں نے ٹیلی گراف میں لکھا، ’مجھے گیری کے بلے بازی کے لیے میدان میں آنے کا انداز بہت پسند تھا۔
‘انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ان میں کوئی انا نہیں تھی۔ ان کی چال ہی مخالف ٹیم کو بتا دیتی تھی کہ وہ یہاں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنا کام کرنے آئے ہیں۔‘
