پاکستانی فوج نے بدھ کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں اپنی افواج کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ ’ہم، پاکستان کی افواج، پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ یہ بات میں آپ کے ساتھ شیئر کر سکتا ہوں۔‘
سی این این کے نمائندے ایوان واٹسن نے سوال کیا کہ کیا پاکستانی فوجی یا کسی قسم کا عسکری عملہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہے، جس پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جواب دیا: ’جی، پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ وہ سعودی عرب میں متعدد صلاحیتوں میں کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد اچانک وجود میں آنے والا کوئی انتظام نہیں بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مسلسل سفارتی، سیاسی، فوجی اور عوامی سطح کے تعلقات کا نتیجہ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا: ’جیسا کہ میں نے کہا، یہ مکہ اتحاد کوئی ایسی چیز نہیں جو اچانک میں وجود میں آئی ہو۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مسلسل سفارتی، سیاسی، فوجی اور عوامی سطح کے تعلقات موجود ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ پاکستانی افواج متعدد صلاحیتوں اور شعبوں میں پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کے وعدوں پر فوری عمل درآمد اور سعودی عرب میں متفقہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے سات اگست 2026 کو طے کیا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان نے اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے، جبکہ تینوں ممالک کے درمیان اس کے تحت فوجی تعاون اور رابطوں میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے۔
