دوحہ میں ایران اور امریکہ کے مذاکراتی وفود کی اس ہفتے ملاقات متوقع تھی، تاہم ایران نے پیر کو کہا کہ کوئی ملاقات طے نہیں ہے، کیونکہ ہفتے کے آخر میں دونوں جانب سے میزائل حملوں نے چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی عبوری جنگ بندی کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق، صدر اپنے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کو مذاکراتی وفد کی قیادت کے لیے بھیج رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران اس ہفتے اپنا تکنیکی وفد قطر بھیج رہا ہے، تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس کا ’امریکی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں‘ اور دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہوئے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا ہے کہ: ’آئندہ چند روز میں امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکراتی اجلاس نہیں ہو گا۔‘
اس بات پر اختلاف کہ آیا دونوں ممالک کے وفود کی ملاقات ہوگی بھی یا نہیں، 17 جون کے اس معاہدے کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، جس کا مقصد چار ماہ سے جاری جنگ کو روکنا تھا۔
اس جنگ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کیا اور نومبر میں ہونے والے امریکی کانگریس کے انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر دیں۔
امریکہ اور ایران نے اپریل کی جنگ بندی میں توسیع، ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت اور مستقل جنگ بندی کے لیے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے کم از کم 60 دن کا وقت مقرر کیا تھا۔ تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت کا راستہ رہی ہے۔
اسرائیل امریکہ اور ایران کے امن مذاکرات میں شامل نہیں ہے اور اس معاہدے سے خود کو الگ رکھا ہوا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی نے لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری، جو ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے اتحادی ہیں، لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے ایک الگ معاہدے پر شکوک کا اظہار کر چکے ہیں۔
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ منگل کو دوحہ میں ایک اجلاس ہوگا، تاہم سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سابقہ تکنیکی مذاکرات کے برعکس اس بار توجہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور کشیدگی میں کمی پر ہوگی۔
ایک اور ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی تکنیکی وفود بدھ کو قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔
واشنگٹن میں غیر یقینی صورت حال
صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’دوحہ میں ہونے والی ملاقات شاید اہم ثابت ہو، شاید نہ ہو۔ ہم دیکھیں گے۔‘
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم فوجی لحاظ سے جیت رہے ہیں۔‘
امریکی مذاکرات کار سٹیو وٹکوف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کانگریس کے ارکان کو ایران سے متعلق ٹیلی فون پر بریفنگ دی۔
ریپبلکن سینیٹر سٹیو ڈینز نے گفتگو کو ’تعمیری‘ قرار دیا، جبکہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے رہنما چک شومر نے اسے ’ناکافی اور تفصیلات سے خالی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو ایک مہنگی جنگ میں جھونکنے کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ یہ نہیں بتا سکی کہ امریکی عوام کو اس کے بدلے میں کیا حاصل ہوا۔ بلکہ سیکریٹری روبیو نے تصدیق کی کہ ایران اربوں ڈالر کی تیل آمدن حاصل کرے گا جبکہ آبنائے ہرمز پر اپنا خطرناک اثر و رسوخ بھی برقرار رکھے گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
قطر میں منجمد ایرانی اثاثے
ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو کہا کہ قطر میں منجمد 12 ارب ڈالر میں سے 6 ارب ڈالر ایران کو واپس جاری کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے امریکی پابندیوں میں نرمی اور تیل و پیٹروکیمیکل شعبے سے متعلق رعایتوں پر مشتمل مفاہمتی یادداشت کو ‘ایرانی عوام کی عظیم کامیابی‘ قرار دیا۔
ہفتے کے آخر میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ وہ عمان کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں تعاون کریں گے۔
تاہم ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بارودی سرنگوں کی صفائی صرف ایران ہی 14 نکاتی منصوبے کے مطابق انجام دے گا، اور انہوں نے فرانس کو صورتحال مزید پیچیدہ نہ بنانے کی تنبیہ بھی کی۔
