پاکستان اور امریکہ نے بدھ کو میری ٹائم شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اصولی اتفاق کر لیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب اسلام آباد خود کو علاقائی تجارت اور ٹرانس شپمنٹ کا مرکز بنانے کے لیے زیادہ امریکی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری اور امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر کے درمیان ملاقات میں بندرگاہوں کی ترقی، لاجسٹکس اور بلیو اکانومی میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت بحری امور کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار کاروباری ماحول پیدا کر رہا ہے اور بلیو اکانومی کی ترقی میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا خیرمقدم کرتا ہے۔
پاکستان اور امریکہ بحری ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے یکجا!
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری اور امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر کے درمیان ملاقات میں بحری تعاون، تجارت، رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ pic.twitter.com/qNM8oUhSsE— Ministry of Maritime Affairs, Govt of Pakistan (@MaritimeGovPK) June 24, 2026
محمد جنید انور چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی سٹریٹجک جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی عالمی بحری گزرگاہوں کے ساتھ واقع اپنی بندرگاہوں کو جدید بنا رہا ہے، لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط کر رہا ہے اور ٹرانزٹ و ٹرانس شپمنٹ خدمات کو وسعت دے رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکومت نے میری ٹائم شعبے کو تجارت بڑھانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم ستون قرار دیا ہے۔
وزیر نے کہا کہ ملک کی بندرگاہیں اور ساحلی وسائل سرمایہ کاری اور ترقی کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق، نٹالی بیکر نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے میں واشنگٹن کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔
دونوں فریقین نے میری ٹائم تجارت کو فروغ دینے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی بلیو اکانومی سے جڑی سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر تبادلہ خیال کیا اور اس شعبے میں ہم آہنگی اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اصولی اتفاق کیا۔
Top of Form
Bottom of Form
