امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرتا ہے تو یہ طرزِ عمل دیگر آبی گزرگاہوں تک بھی پھیل سکتا ہے، جس سے ’مکمل افراتفری‘ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آبنائے ہرمز کا مستقبل، جو توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور جسے جنگ کے دوران ایران نے بند کر دیا تھا، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم اختلافی نکتہ بن چکا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تہران کا کہنا ہے کہ وہ ٹول ٹیکس کے بجائے ’بحری خدمات کی فیس‘ عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، اس لیے اس کے استعمال پر کوئی فیس نہیں لی جانی چاہیے۔
بحرین میں خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا: ’بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ آج کی دنیا میں یہ ایک بنیادی اصول ہے، جس کے بغیر دنیا مکمل افراتفری کا شکار ہو جائے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ کوئی ملک صرف اس لیے کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے استعمال پر فیس وصول کر سکتا ہے کہ وہ اس کی علاقائی حدود کے قریب واقع ہے، تو پھر یہ طرزِ عمل ایک وبا کی طرح پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے، جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی قسم کی آمد و رفت بغیر اجازت قابلِ قبول نہیں ہوگی اور ہدایات پر عمل نہ کرنے والے جہازوں کے ساتھ ’نمٹا جائے گا۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا: ’آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے صرف وہی راستہ مجاز ہے جس کا اعلان اسلامی جمہوریہ ایران نے کیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ بغیر اجازت کسی بھی قسم کی آمد و رفت ’ناقابلِ قبول اور انتہائی خطرناک‘ ہے۔
گذشتہ ہفتے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں یہ شرط شامل تھی کہ آئندہ 60 دن تک تجارتی جہاز اس آبنائے سے بغیر کسی فیس کے گزر سکیں گے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں یہ واضح نہیں کہ اس مدت کے بعد کیا انتظامات نافذ ہوں گے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اپنے پہلے علاقائی دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ امن معاہدہ تو چاہتا ہے، لیکن ’کسی بھی قیمت پر نہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’اگرچہ ہم ایک معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی قیمت پر معاہدہ نہیں چاہتے۔ ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو اچھا ہو، حقیقی ہو، اس کی تصدیق کی جا سکے اور اس پر عمل بھی کیا جائے۔‘
امریکی وزیر خارجہ، جو اپنے دورے کے دوران شدید حملوں سے متاثرہ متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کر چکے ہیں، نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ خلیجی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا: ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ ہو جو کسی بھی طرح خلیجی خطے میں ہمارے شراکت داروں کی سلامتی، استحکام یا خوشحالی کو نقصان پہنچائے۔‘
