پاکستان آئی ایم ایف جائزے کے لیے ٹریک پر ہے: مشیر وزارت خزانہ

پاکستان کے معاشی حالات کا جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا مشن بدھ 23 ستمبر سے اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات شروع کر رہا ہے، جس کے حوالے سے وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان ’آئی ایم ایف جائزے کے لیے ٹریک پر ہے اور حکومت آئی ایم ایف مشن کے ساتھ تعمیری بات چیت کی منتظر ہے۔‘

تقریباً دو ہفتے جاری رہنے والے ان مذاکرات میں پاکستانی معیشت کی مجموعی صورت حال کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ آئی ایم ایف کے 37 ماہ پر محیط سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کا چوتھا جائزہ ہوگا، جبکہ پاکستان کے لیے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کا تیسرا جائزہ بھی اسی دوران ہوگا۔

آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت جائزے ہر چھ ماہ بعد کیے جاتے ہیں اور ان میں طے شدہ معاشی اہداف اور دیگر شرائط کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس جائزے میں بنیادی طور پر 30 جون 2026 تک پاکستان کی اقتصادی کارکردگی اور پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد دیکھا جائے گا۔

لیکن یہ جائزہ اتنا اہم کیوں ہے؟

آئی ایم ایف کے پروگرام میں جائزوں کا مکمل ہونا آئندہ مالی معاونت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

گذشتہ جائزے کی تکمیل کے بعد مئی 2026 میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے تقریباً ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ای ایف ایف اور تقریباً 22 کروڑ ڈالر آر ایس ایف کے تحت جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی ایم ایف کے مطابق اس ادائیگی کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم تقریباً چار ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

اس بار جائزہ کامیابی سے مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ آر ایس ایف کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی مزید رقم ملنے کی راہ ہموار ہوگی۔

وزارت خزانہ کے مشیر کے مطابق یہ مذاکرات ’معمول کے جائزہ عمل کا حصہ ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے اس جائزے کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ چیف مہیر بنجی سے رابطہ کیا تاہم اس خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہو سکا۔

آئی ایم ایف کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی آمدن گذشتہ جائزے کے ہدف سے کم رہی تھی۔ آئی ایم ایف کی دستاویز کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام تک ایف بی آر کی آمدن 9.306 کھرب روپے رہی جبکہ اس کا ہدف تقریباً 10 کھرب روپے تھا۔

آئی ایم ایف پروگرام کا ایک بنیادی مقصد حکومت کے مالیاتی خسارے کو کم کرنا اور قرضوں کو قابو میں رکھنا بھی ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے میسر تفصیلات کے مطابق: ’پاکستان نے گذشتہ مالی سال میں پرائمری سرپلس کے ہدف کو حاصل کرنے کی سمت میں پیش رفت کی جبکہ 27-2026 کے لیے حکومت نے جی ڈی پی کے دو فیصد کے برابر پرائمری سرپلس کا ہدف برقرار رکھا ہے۔‘

روئٹرز کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ ’اگر خطے میں جاری تنازع نومبر یا دسمبر تک برقرار رہتا ہے تو یہ حکومت کے رواں مالی سال میں چار فیصد اقتصادی شرح نمو کے ہدف کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت فی الحال آئی ایم ایف سے کسی اضافی ہنگامی مالی معاونت کی درخواست کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔‘

لہٰذا سوال یہ ہے کہ پاکستان نے گذشتہ جائزے کے اہداف کس حد تک پورے کیے، بلکہ یہ بھی زیر بحث آئے گا کہ حکومت نئے مالی سال کے لیے طے کیے گئے ٹیکس، مالیاتی اور ساختی اصلاحات کے اہداف کس طرح پورے کرے گی۔

نوٹ: میں نے آپ کے اصل متن میں موجود تمام اقتباسات کو تبدیل نہیں کیا۔ صرف انٹرو میں پہلے سے موجود خرم شہزاد کے مکمل اقتباس کو سرخی میں بھی نمایاں کیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *