ٹیکسلا: ٹک ٹاکر عائشہ گلمانہ کے قتل کا مقدمہ درج

ٹیکسلا میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے عائشہ گلمانہ کے نام سے معروف ٹک ٹاکر شمسو بی بی کو رواں ہفتے قتل کر دیا گیا جس کی اتوار کو ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

ایف آئی آر کی نقل کے مطابق واقعہ 14 اگست کو پیش آیا۔ مقتولہ کے والد فضل صاحبزادہ نے بتایا کہ ان کی 28 سالہ بیٹی، جو ٹک ٹاک پر عائشہ گلمانہ کے نام سے بھی معروف تھیں، کو ایک شخص نے فون کرکے فوری طور پر گھر سے باہر آنے کو کہا۔

درخواست کے مطابق گلمانہ اپنی 15 سالہ بہن عاصمہ اور بھائی نعمت اللہ کے ہمراہ گاڑی میں گھر سے روانہ ہوئیں۔ کچھ ہی دیر بعد والد کو اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہے جبکہ ان کی دوسری بیٹی عاصمہ شدید زخمی ہیں۔

فضل صاحبزادہ کے مطابق وہ ٹی ایچ کیو ہسپتال ٹیکسلا پہنچے جہاں مردہ خانے میں اپنی بیٹی کی لاش کی شناخت کی۔

مقتولہ کے بھائی نعمت اللہ نے بتایا کہ پیٹرول پمپ کے قریب موٹر سائیکل سوار 30 سے 35 سال کی عمر کے دو نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔

فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی عائشہ گلمانہ کی گردن پر لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں، جبکہ گاڑی بے قابو ہوکر ایک دوسری گاڑی سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں عاصمہ زخمی ہوگئیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

والد نے پولیس کو بتایا کہ گلمانہ گذشتہ تین سے چار برس سے ٹک ٹاک ویڈیوز بنا رہی تھیں اور ان کے تقریباً 13 لاکھ فالوورز تھے۔

قتل کے بعد خاندان نے ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ غیر فعال کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکاؤنٹ پر 30 سے 35 ملین سے زیادہ لائکس اور 10 لاکھ سے زائد فالوورز تھے۔

قتل کی وجہ کے حوالے سے کیا دعویٰ کیا گیا؟

فضل صاحبزادہ نے پولیس کو دی گئی درخواست میں کوثر اور جاوید عرف شاہین نامی افراد کے ساتھ اپنی بیٹی کے مالی معاملات کا بھی ذکر کیا۔

ان کے مطابق عائشہ گلمانہ کو رقم کی واپسی کے مطالبے پر ان افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں اور انہوں نے اس حوالے سے اسلام آباد میں ان کے خلاف درخواست بھی جمع کرائی تھی۔

مقتولہ کے والد نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کی بیٹی کو یا تو کوثر اور جاوید عرف شاہین نے خود قتل کیا یا نامعلوم حملہ آوروں کے ذریعے قتل کروایا تاکہ اس کی رقم ہڑپ کی جا سکے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں کاشف عرف کاشی کی مبینہ ترغیب بھی شامل ہے۔

انہوں نے پولیس سے نامزد ملزمان اور دو نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا نعمت اللہ فائرنگ کرنے والے افراد کو سامنے لائے جانے کی صورت میں شناخت کرسکتا ہے۔

پولیس نے درخواست میں نامزد افراد اور دو نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *