بلوچستان کے ضلع دکی کے علاقے پلڑی میں پولیس کے مطابق جمعے اور ہفتے کے درمیانی شب ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ایک مزدور جان سے گیا جبکہ 11 مزدوروں کو اغوا کر لیا گیا۔
مسلح حملہ آوروں نے کمپنی کی مشینری کو بھی نذرِ آتش کردیا۔
دکی کے اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مسلح افراد نے پلڑی میں تعمیراتی کمپنی کے ایک کیمپ پر حملہ کیا، اس دوران ان کا کیمپ کے نجی سکیورٹی گارڈز سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پولیس افسر کے مطابق حملے میں کیمپ کا ایک گارڈ جان سے گیا اور دو افراد زخمی ہو گئے جبکہ حملہ آوروں نے کیمپ سے 11 مزدوروں کو بھی اغوا کرلیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پولیس کے مطابق مغویوں میں سے 9 کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ دو افراد مقامی بتائے جاتے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ مسلح افراد نے کیمپ میں موجود مشینری کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔
دکی اور ہرنائی کے علاقوں میں کوئلہ نکالنے کے ذخائر موجود ہیں اور گذشتہ کئی سالوں سے یہ علاقے مسلح حملہ آوروں کی زد میں ہیں۔
کالعدم تنظیم کے مسلح گروپ ان علاقوں میں نہ صرف کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں پر حملے کرکے نذر آتش کرتے ہیں بلکہ متعدد بار مزدوروں کو اغوا بھی کرتے ہیں۔
مسلسل حملوں اور اغوا کے باعث کوئلہ نکالنے کا کام کافی متاثر ہوا اور مزدوروں کی ایک بڑی تعداد میں علاقے میں جانے سے گریزاں ہے۔
کوئلہ نکالنے والے مالکان کا کہنا ہے کہ سینکڑوں لیز بند ہو چکی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔
