فیفا ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں تین ریڈ کارڈز، کھلاڑیوں کو میدان سے کیوں نکالا گیا؟

فٹ بال ورلڈ کپ 2026 میں جنوبی افریقہ کی مہم کا بدترین آغاز ہوا، کیونکہ اسے نہ صرف مشترکہ میزبان ملک میکسیکو نے شکست دی بلکہ لگاتار دو ریڈ کارڈز کے بعد اس نے نو کھلاڑیوں کے ساتھ میچ ختم کیا۔

دونوں کارڈ دوسرے ہاف میں دکھائے گئے جب کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کھیل کے آٹھویں منٹ میں جولین کوئنیونس کے گول کی بدولت پہلے ہی 0-1 سے ہار رہی تھی۔ سپیفیلو ’یایا‘ سیتھولے وہ پہلے کھلاڑی تھے جنہیں جنوبی افریقہ کے پینلٹی ایریا کے کنارے پر برائن گٹیریز کو پکڑنے اور گول سکور کرنے کا موقع ختم کرنے پر میدان سے باہر نکالا گیا۔

فیصلہ واضح تھا لیکن 84 ویں منٹ میں ملنے والا دوسرا ریڈ کارڈ زیادہ متنازع بن گیا۔

جب میکسیکو نے لیفٹ ونگ سے باکس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو جنوبی افریقہ کے تھیمبا زوانے، رابرٹو الواراڈو کے ساتھ گتھم گتھا ہو گئے۔ زوانے نے میکسیکن کھلاڑی کے پیچھے سے آ کر اپنا بایاں بازو الواراڈو کے چہرے پر دے مارا جو اپنا سر پکڑ کر زمین پر گر پڑے۔

ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) نے ریفری ولٹن سامپائیو کو پچ سائیڈ مانیٹر پر بلایا اور اس واقعے کا ری پلے دیکھنے کو کہا۔

انہوں نے زوانے کی جانب سے ایک تھپڑ دیکھا، جو بعد میں ریفری کی باڈی کیم فوٹیج سے مزید واضح ہو گیا اور فیصلہ کیا کہ پرتشدد رویے پر جنوبی افریقی کھلاڑی ریڈ کارڈ کے حق دار تھا۔

2006 کے راؤنڈ آف 16 میں پرتگال اور نیدرلینڈز کے ایک دوسرے کے خلاف دو دو کھلاڑیوں کے میدان سے باہر نکالے جانے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ورلڈ کپ کے کسی میچ میں ایک ٹیم کو دو ریڈ کارڈز ملے تھے۔

آئی ٹی وی کی میچ کوریج کے دوران ایلی مک کوئسٹ نے دعویٰ کیا: ’میرا خیال ہے کہ یہ فیصلہ انتہائی سخت ہے۔‘ جب کہ کمنٹیٹر نے زوانے کی حرکت کو ان کی پوزیشن کے لحاظ سے فطری قرار دیا۔

میچ کی امریکی کوریج میں، یو ایس ایم این ٹی کے سابق سٹار لینڈن ڈونوون کا بھی کچھ ایسا ہی نظریہ تھا اور انہوں نے کہا: ’یہ ایک سخت ریڈ کارڈ ہے، میری نظر میں یہ ریڈ کارڈ نہیں بنتا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم، یہ تنازع کا آخری لمحہ نہیں تھا کیوں کہ میچ کے آخری لمحات میں میکسیکو کے کھلاڑیوں کی تعداد بھی کم ہو کر 10 رہ گئی۔

لیفٹ بیک سیزر مونٹیس نے جان بوجھ کر کھولیسو موڈاؤ کی تیز دوڑ کو اس وقت روکا جب وہ دائیں جانب سے پینلٹی ایریا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ مونٹیس نے اپنی ٹانگ آگے کر کے موڈاؤ کو زمین پر گرا دیا اور وہ اس وقت حیران رہ گئے جب ریفری نے میچ کا لگاتار تیسرا ریڈ کارڈ نکال لیا۔

آئی ٹی وی کی امریکن رولز اینالسٹ اور وی اے آر ماہر، کرسٹینا انکل نے وضاحت کی کہ وی اے آر کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے کوئی واضح ثبوت نہیں تھا کہ ریفری سے غلطی ہوئی ہے اور اس طرح، مونٹیس کو گول سکور کرنے کا موقع ختم کرنے پر میدان سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ ساتواں موقع تھا جب ورلڈ کپ کے کسی میچ میں تین یا اس سے زیادہ ریڈ کارڈز دکھائے گئے اور کسی افتتاحی میچ میں ایسا پہلی بار ہوا۔

اب یہ تینوں کھلاڑی، سیتھولے، زوانے اور مونٹیس اپنی قومی ٹیم کا اگلا میچ نہیں کھیل سکیں گے لیکن فیفا کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ ضروری سمجھے تو پابندی میں توسیع کر سکتی ہے یا اس میں کسی اور سزا کا اضافہ کر سکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سیتھولے اور زوانے 18 جون کو چیکیا کے خلاف اگلا میچ نہیں کھیل سکیں گے اور مونٹیس 19 جون کو جنوبی کوریا کے خلاف میکسیکو کے میچ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *