امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے (19 جون) سے قبل ہی واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے معاہدے کو جاری کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
یہ بات انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئی کہی۔
امریکہ اور ایران کی قیادت اس معاہدے پر الیکٹرانک طور پر دستخط کر چکی ہے۔
اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس معاہدے کا متن جمعے کو باضابطہ دستخط کے بعد جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز بھی مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ اس ہفتے ہونے والے جی 7 اجلاس سے قبل بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ وہ جمعے کو جنیوا میں متوقع تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں، تاہم نائب صدر وینس اس میں موجود ہوں گے۔
ٹرمپ نے فرانس کے شہر ایویان پہنچنے کے فوراً بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’معاہدہ مکمل طور پر سائن ہو چکا ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں، آبنائے پہلے ہی جزوی طور پر کھول دی گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’جمعے تک یہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔‘
انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے کو سراہا، جہاں خلیجی تیل کی ترسیل کی تین ماہ کی ناکہ بندی نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو کہا تھا کہ پاکستان جمعے کو جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے پر دستخطوں کی تقریب کا میزبان ہو گا۔
قومی اسمبلی سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا: ’جنگ کی تاریک کے بعد امن کا سورج طلوع ہو چکا ہے کیوں کہ ایران اور امریکہ نے تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کر دی ہے۔‘
انہوں نے امن معاہدے تک پہنچنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو مبارک باد پیش کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس معاہدے کی کاوشوں میں قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چینی صدر نے ابھی اس معاہدے کی پیش رفت میں اہم تعاون کیا۔
شہباز شریف نے اس معاہدے کو ’صرف دو ممالک کا معاہدہ نہیں بلکہ امن اور مکالمے کی فتح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے پورے عمل کے دوران امریکہ اور ایران کی قیادت نے مشکل حالات میں صبر اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا۔
بقول وزیراعظم: ’اس کے نتیجے میں آج پوری دنیا اس عظیم دن کی گواہ بن رہی ہے۔‘
