گوادر میں حکام کے مطابق مغربی ساحل پر کروڈ آئل کے ممکنہ اخراج کے باعث آبی حیات کو نقصان پہنچا ہے، جہاں چار کچھوے اور متعدد مچھلیاں مردہ پائی گئی ہیں، جبکہ ساحل کے مختلف حصوں پر آئل کے بڑے ٹھوس ٹکڑے بھی موجود نظر آتے ہیں۔
گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے ڈپٹی ڈائریکر ماحولیات عبدالرحیم کے مطابق نو جون کو انہیں اطلاع ملی کہ ساحل پر آئل نما مواد کے بڑے ٹکڑے موجود ہیں، جس کے بعد وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر مغربی ساحل پہنچے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’جیسے ہی اطلاع ملی، ہم موقعے پر پہنچے تو ساحل کے مختلف حصوں پر ایک سے چھ انچ تک کے آئل کے ٹھوس ٹکڑے موجود تھے، جو ڈامر نما شکل اختیار کیے ہوئے تھے۔ اسی دوران تین سے چار مردہ کچھوے اور کچھ مچھلیاں بھی ساحل پر دیکھی گئیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو فوری طور پر آگاہ کیا گیا، جس کے بعد مختلف محکموں کے اہلکار بھی موقعے پر پہنچ گئے اور مشترکہ طور پر صفائی اور جائزے کا عمل شروع کیا گیا۔
عبدالرحیم نے بتایا کہ ’تقریباً 10 سے 12 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر دستی طریقے سے صفائی کی گئی، جس کے دوران آئل کے بڑے ٹکڑے اور دیگر آلودہ مواد ساحل سے ہٹا دیا گیا۔‘
کروڈ آئل کے ممکنہ ماخذ کے حوالے سے عبدالرحیم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آلودگی ساحل تک کیسے پہنچی، تاہم مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق: ’ایک امکان یہ ہے کہ یہ آلودگی بین الاقوامی بحری راستوں سے گزرنے والے کسی آئل ٹینکر سے رساؤ کے باعث پیدا ہوئی ہو، جبکہ کسی بحری جہاز سے اخراج کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔‘
گوادر کے ساحل پر کروڈ آئل کی موجودگی کے اس واقعے نے نہ صرف آبی حیات کو متاثر کیا ہے بلکہ مقامی ماہی گیروں کی روزی روٹی پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔
گوادر ماہی گیر اتحاد کے سربراہ خداداد واجد کے مطابق آلودگی کے باعث مچھلیاں ساحل کے قریب علاقوں سے گہرے سمندر کی جانب منتقل ہو گئی ہیں، جس سے روایتی ماہی گیری شدید متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’عام دنوں میں ماہی گیر 600 سے 700 کلوگرام تک مچھلیاں پکڑ لیتے تھے، تاہم اب پیداوار میں نمایاں کمی آ گئی ہے اور کئی ماہی گیر معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق کروڈ آئل سمندری ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف مچھلیوں اور کچھوؤں کی اموات کا سبب بنتا ہے بلکہ پرندوں کے پروں سے چپک کر ان کی پرواز اور بقا کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف سندھ کے میرین لائف کے سربراہ اشفاق میمن کے مطابق سبز کچھوہ (گرین ٹرٹل) ایک اہم سمندری نوع ہے اور اگرچہ بعض خطوں میں اس کی آبادی میں بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم اس کے تحفظ کے لیے مسلسل نگرانی اور احتیاط ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا: ’تیل کی آلودگی جیسے واقعات مستقبل میں اس نوع کی افزائش اور بقا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے ایسے واقعات کی بروقت روک تھام اور تحقیقات ناگزیر ہیں۔‘
حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ساحل سے حاصل کیے گئے نمونوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ آلودگی کی نوعیت اور اس کے ممکنہ ماخذ کا تعین کیا جا سکے۔
