وینزویلا میں یکے بعد دیگرے شدید زلزلوں سے تباہی، ایمرجنسی نافذ

بدھ کی شام وینزویلا میں یکے بعد دیگرے آنے والے شدید زلزلوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی، عمارتیں منہدم ہو گئیں اور خوفزدہ شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے ابتدا میں پہلے زلزلے کی شدت 7.1 بتائی تھی، جسے بعد میں 7.2 کر دیا گیا۔ اس کا مرکز مورون نامی قصبے کے مغرب میں تھا، جو ملک کے کیریبین ساحل پر واقع ہے اور کاراکاس سے تقریباً 168 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ زلزلے کی گہرائی 22 کلومیٹر تھی۔

یو ایس جی ایس کے مطابق صرف ایک منٹ بعد 7.5 شدت کا ایک اور زیادہ طاقتور زلزلہ آیا۔ دوسرے زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز مورون سے 16 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔

یہ زلزلے، جو ایک صدی سے زیادہ عرصے میں وینزویلا میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، شام چھ بجے کے فوراً بعد آئے، جس کے باعث دارالحکومت کاراکاس میں لوگ لرزتی ہوئی عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا، جبکہ برازیل کے خطے ایمازون تک میں عمارتیں خالی کروا لی گئیں، جو وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس سے تقریباً 1,700 کلومیٹر دور واقع ہیں۔

بدھ کی رات قوم سے مختصر خطاب میں قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے کہا کہ زلزلوں سے کئی ریاستوں میں نقصان ہوا، تاہم انہوں نے متاثرہ گھروں اور عمارتوں کی تعداد یا زخمیوں اور اموات کے بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے۔

ان کے مطابق زلزلوں سے ملک کے مرکزی ایئرپورٹ سائمن بولیوار بین الاقوامی ہوائی اڈے کو اتنا شدید نقصان پہنچا کہ اسے بند کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی دنوں کے لیے تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔

روڈریگیز نے کہا: ’ہم اپنے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پرسکون رہیں۔ ہم اتحاد کی اپیل کرتے ہیں۔‘

ڈیلسی روڈریگیز نے ملک بھر کے تمام طبی عملے سے بھی کہا کہ وہ ہسپتالوں میں حاضر ہوں تاکہ زخمیوں کی مدد کی جا سکے۔ وزارتِ تعلیم نے بدھ کی رات اعلان کیا کہ بعض سکولوں کو پناہ گاہوں اور امدادی عطیات کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاراکاس میں میٹرو اور قدرتی گیس کی خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے وینزویلا کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ حکومتی ایپ کے ذریعے نقصانات کی اطلاع دیں۔

ساحلی ریاست فالکون میں گورنر وکٹر کلارک نے کہا کہ 32 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور زلزلے کے چار گھنٹے سے زیادہ گزر جانے کے باوجود 15 افراد اب بھی ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے کہا کہ زلزلے کے جھٹکے کئی ریاستوں میں محسوس کیے گئے۔ ان کے مطابق کاراکاس کے علاقے الٹامیرا میں گھروں اور عمارتوں کے منہدم ہونے کے باعث ’تشویش ناک صورت حال‘ پیدا ہو گئی ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ زلزلے میں لوگ زخمی ہوئے ہیں اور گاڑی چلانے والوں سے کہا کہ وہ ایمبولینسوں اور دیگر ہنگامی گاڑیوں کو راستہ دیں۔

دیوسدادو کابیو نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ بعض لوگ پریشان ہو سکتے ہیں، لیکن ہم امدادی اور ریسکیو کارروائیاں شروع کرنے کے لیے ضابطوں کے مطابق کام کر رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کی مدد کی جا سکے جنہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں، ایک دوسرے سے رابطہ کریں اور یقین کر لیں کہ کوئی نقصان سے دوچار نہ ہوا ہو۔‘

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ کھلی جگہوں پر رہیں کیونکہ بعد کے جھٹکے بعض عمارتوں کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

کئی افراد شدید صدمے کی حالت میں تھے کیونکہ عمارتوں کی پوری دیواریں گر چکی تھیں اور سڑک سے گھروں کا فرنیچر دکھائی دے رہا تھا۔ دارالحکومت کے دو علاقوں میں گرد و غبار کے بادل بھی دیکھے گئے، جہاں عموماً ریستوران اور دیگر کاروبار مصروف رہتے ہیں۔

’ہم سب کو اپنے گھروں سے نکلنا پڑا‘

سورج غروب ہونے کے بعد بھی لوگ کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر موجود رہے۔ بعض لوگ اپنے پالتو جانوروں کو گلے لگائے زمین پر بیٹھے رہے۔ منہدم عمارتوں، گرے ہوئے بجلی کے کھمبوں اور ملبے نے سڑکیں بند کر دیں۔ دارالحکومت کے بعض علاقوں میں بجلی اور موبائل فون سگنل بھی معطل ہو گئے۔

کاراکاس کے رہائشی ہیکٹر رِچی نے کہا: ’پہلے ہلکے جھٹکے محسوس ہوئے، پھر شدت آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور آخرکار ہم سب کو اپنے گھروں سے نکل کر باہر آنا اور ایک جگہ جمع ہونا پڑا۔‘

کاراکاس کے رہائشی روبرٹو گاماس نے کہا: ’عمارت واقعی ایک طرف سے دوسری طرف ہل رہی تھی۔ یہ ناقابلِ یقین تھا۔ زلزلے کی شدت بہت زیادہ تھی۔ ہم چل رہے تھے اور جھٹکے ہمیں ادھر اُدھر پھینک رہے تھے۔ اپارٹمنٹ کے اندر ہر چیز گر گئی۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

وینزویلا کے بعض حصوں میں موبائل فون سگنل کی عدم دستیابی نے بہت سے خاندانوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا، خاص طور پر ان خاندانوں کی، جن کے افراد ان 77 لاکھ سے زائد لوگوں میں شامل ہیں جو ملک کے طویل بحران کے دوران وینزویلا چھوڑ چکے ہیں۔

دسمبر میں وینزویلا چھوڑنے کے بعد جلاوطنی اختیار کرنے والی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے وینزویلا کے عوام کے لیے دعا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایکس پر لکھا: ’اس مشکل وقت میں ہمارے درمیان طاقت، سکون اور یکجہتی قائم رہے۔‘

وینزویلا سے اظہارِ یکجہتی

وینزویلا میں آنے والے شدید زلزلوں کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر فوری ردعمل سامنے آیا اور امریکہ، چلی اور ایل سلواڈور سمیت مختلف حکومتوں نے مدد کی پیشکش کی۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے ایکس پر کہا: ’امریکہ آج شام آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم حکام سے رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیوں کو متحرک کر رہے ہیں۔‘

ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے، جو ماضی میں وینزویلا کی حکومت کے سخت مخالف رہے ہیں، نے بدھ کی رات ایکس پر جاری بیان میں امداد کی پیشکش کی۔

انہوں نے لکھا: ’ہم اپنی مکمل یکجہتی اور دعائیں آپ کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ مضبوط رہیں، وینزویلا۔‘

ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا نے وینزویلا کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوری انسانی امداد بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے لکھا: ’ایکواڈور اس وقت کے تقاضوں کے مطابق تیزی اور عزم کے ساتھ ردعمل دے گا کیونکہ ہمارے اختلافات کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، انسانیت کو ہمیشہ ایک رہنما کے اقدامات کی رہنمائی کرنی چاہیے۔‘

زلزلے کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے گئے

ٹی وی گلوبو کی رپورٹس کے مطابق زلزلے کے بعد برازیل کے ایمازون خطے کے شہروں ماناؤس، بیلیم اور ماکاپا میں عمارتیں خالی کروا لی گئیں، جیسا کہ

زلزلے کے جھٹکے کولمبیا کے کیریبین اور شمال مشرقی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، تاہم وہاں کسی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے زلزلوں کے بعد سونامی سے متعلق کئی انتباہات جاری کیے، جنہیں بعد میں جلد ہی واپس لے لیا گیا۔

وینزویلا میں شدید زلزلے غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں۔

اگرچہ وینزویلا کئی فالٹ لائنوں کے قریب واقع ہے، تاہم جنوبی امریکی اور کیریبین ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان اس کی جغرافیائی پوزیشن کے باعث یہاں لاطینی امریکہ کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زلزلے کم آتے ہیں۔

بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں مثلاً میکسیکو اور چلی میں زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک ’رِنگ آف فائر‘ کہلانے والی زلزلہ خیز ٹیکٹونک پٹی پر واقع ہیں، جو امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دنیا کے 90 فیصد زلزلوں کی ذمہ دار ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *