پاکستان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ کئی ’دہشت گرد گروہ‘ افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں سے بدستور کارروائیاں کر رہے ہیں، جو علاقائی سکیورٹی کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔
دہشت گردی کی کارروائیوں کے باعث بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات پر سلامتی کونسل میں بریفنگ کے دوران خطاب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ’اگرچہ انسداد دہشت گردی کی مسلسل بین الاقوامی کوششوں نے عسکریت پسند تنظیم داعش خراسان جیسے گروپوں کی صلاحیتوں کو کمزور کیا ہے، لیکن دہشت گردی کا خطرہ مسلسل نئی شکل اختیار کر رہا ہے، خاص طور پر افریقہ، مشرق وسطی اور افغانستان کے بعض حصوں میں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں صورت حال بدستور انتہائی تشویش ناک ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد سے، اس ملک میں تیزی سے سازگار ہوتے ماحول میں کئی دہشت گرد گروہ بدستور پروان چڑھ رہے ہیں۔‘
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan,
At the UNSC Briefing on Threats to International Peace and Security Caused by Terrorist Acts
(5 August 2026)
*****Madam President,
Allow me to begin by congratulating you on assuming the… pic.twitter.com/hiKzPHd0E4
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) August 5, 2026
عاصم افتخار نے خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور اس سے وابستہ تنظیموں، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) اور القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے نام لیے جنہیں، پاکستان کے مطابق، افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی حاصل ہے۔
پاکستان نے بارہا ٹی ٹی پی پر الزام لگایا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور انہیں انجام دینے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتی ہے، یہ وہ الزام ہے جسے طالبان حکام مسترد کر چکے ہیں۔ اسلام آباد نے بیرونی عناصر پر بھی پاکستان کے خلاف کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔
عاصم افتخار نے طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی یہ ذمہ داری پوری کریں کہ افغان سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے دوسرے ممالک کو دھمکی دینے کے لیے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے ان عناصر کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا جنہیں انہوں نے دہشت گردی کے بیرونی سرپرست قرار دیا۔
قبل ازیں امریکہ اور پاکستان کے انسداد دہشت گردی مذاکرات میں بھی افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں پر اسی طرح کی توجہ کی عکاسی کی گئی۔ انسداد دہشت گردی ایک ایسے شعبے کے طور پر ابھرا ہے جہاں دونوں ممالک اپنے مفادات میں واضح ہم آہنگی دیکھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ میں خطاب میں پاکستان کے مستقل مندوب نے جموں و کشمیر پر اسلام آباد کے تحفظات کو بھی اجاگر کیا۔ کونسل کا یہ اجلاس خطے کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے انڈیا کے پانچ اگست، 2019 کے فیصلے کی سات سال مکمل ہونے پر ہوا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عاصم افتخار نے اس دن نافذ کیے گئے اقدامات کو کشمیری عوام کے خلاف جبر کا ایک نیا دور قرار دیا اور انڈیا پر متنازع علاقے میں اس کے ارتکاب کا الزام لگایا جسے انہوں نے ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو ایسی کارروائیوں پر ’صفر برداشت‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو اسے دبانے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے جسے پاکستان حق خودارادیت کی جائز جدوجہد قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سلامتی کے فریم ورکس میں دہشت گردی کی تمام اقسام سے نمٹا جانا چاہیے۔
انہوں نے استدلال کیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل میں دوہرے معیار اور پسند ناپسند سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے تمام گروپوں سے ایک مستقل حکمت عملی کے تحت نمٹا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی ’کوئی سرحدیں نہیں ہوتیں‘ اور اس کا ’کوئی مذہب نہیں ہوتا۔‘
