وہ ہمیں ڈسٹرب کر رہے تھے، اس لیے فائر کیا: ملزم سعد عباسی کا عدالت میں بیان

انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس کے مرکزی ملزم سعد عباسی نے پیر کو پیشی کے دوران بیان دیا ہے کہ فائرنگ سے قبل مقتول افسر انہیں اور ساتھ موجود لڑکی کو ’ڈسٹرب کر رہے تھے۔‘

ملزم سعد عباسی کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ملزم سے استفسار کیا کہ ’کیوں کیا ہے یہ کام؟‘ جس پر سعد عباسی نے جواب دیا ’میں لڑکی کے ساتھ تھا، بندہ آ کر ہمیں ڈسٹرب کر رہا تھا۔‘

ملزم کے اس بیان پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے: ’ڈسٹرب کیا؟ کیا اچھا کام کر رہے تھے جو ڈسٹرب کیا؟‘

بعد ازاں عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو 14 روز کے لیے شناخت پریڈ کی غرض سے جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا۔  

اے ٹی سی جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے اس کیس کی سماعت کی جس میں پراسیکیوٹر راجا نوید اور تفتیشی افسر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ ملزم سعدعباسی کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ 

حکم نامے کے مطابق ملزم سعد عباسی کو گزشتہ روز گرفتار کیے جانے کے بعد ڈھکے ہوئے چہرے کے ساتھ پولیس حراست میں عدالت پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر راجہ نوید حسین اور تفتیشی افسر اختر حسین ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ تفتیشی افسر نے ملزم کی شناخت پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے قرار دیا ہے کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ملزم پر سنگین نوعیت کے جرم کا الزام ہے، جس کے نتیجے میں مسلح افواج کے ایک اہلکار کی جان گئی۔ 

عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم سعد عباسی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ اسے 20 جولائی 2026 کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالت نے جیل حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ شناخت پریڈ مکمل ہونے تک ملزم کا سر، چہرہ اور حلیہ تبدیل نہ ہونے دیا جائے اور اس کی شناخت مخفی رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ اگر مقررہ مدت میں شناخت پریڈ نہ ہو سکے تو ملزم کو ذاتی طور پر پیش کرنے کے بجائے صرف روبکار عدالت میں پیش کی جائے۔

پولیس کے مطابق سعد عباسی کے خلاف تھانہ مارگلہ میں قتل اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم ایک خاتون کو ہراساں کر رہا تھا، جس پر پاکستان فضائیہ کے افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق نے مداخلت کی۔ ملزم پہلے موقع سے چلا گیا، تاہم کچھ فاصلے پر جا کر واپس آیا اور گروپ کیپٹن عاصم طارق پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *