نائن الیون کے بعد القاعدہ تبدیل ہو گئی تھی: نارویجین محقق

ایک وقت دنیا میں القاعدہ تنظیم ایک بڑی خبر تھی۔ اکثر حکومتیں اور بین الاقوامی میڈیا اس کی کھوج میں رہتا تھا، لیکن 2011 میں اس کے سربراہ اسامہ بن لادن اور بعد میں ڈاکٹر ایمن الظواہری کی موت نے اس کی کہانی تقریباً ختم کر دی۔

یہ تنظیم کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی ختم نہیں، یہ کہنا تھا اس شدت پسند تنظیم پر ایک نئی تحقیقاتی کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر این لیکوسکی کا۔

اسلام آباد میں اپنی کتاب ’القاعدہ آفٹر 9/11: دی وار آن ٹیرر اینڈ دی ڈیکیڈ آف ڈیمائس (نائن الیون کے بعد کی القاعدہ: دہشت گردی کے خلاف جنگ اور موت کی دہائی) کی تقریب رونمائی کے بعد انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ڈاکٹر این نے بتایا: ’یہ منصوبہ دراصل 2018 میں شروع ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کے گھر سے بڑی تعداد میں ملنے والی دستاویزات جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان دستاویزات میں القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی بہت سی ذاتی خط و کتابت بھی شامل تھی۔‘

ڈاکٹر این کے لیے یہ ایک نہایت دلچسپ ماخذ تھا، جس کا انہوں نے مطالعہ شروع کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ اس مواد کی بنیاد پر القاعدہ کے بارے میں اب بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔

لیکوسکی کا مؤقف ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد القاعدہ کا زوال محض مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ تنظیم کی اندرونی کمزوریاں اور اس کے انفرادی رہنماؤں کی غلطیاں اور خامیاں بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔

یہ کتاب پہلی مرتبہ ان حالات پر روشنی ڈالتی ہے جہاں اسامہ بن لادن کی واضح حکمتِ عملی کے فقدان کے باعث القاعدہ کی درمیانی سطح کی قیادت کو اس کے نتائج سے نمٹنا پڑا۔ کتاب یہ بھی دکھاتی ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے درمیان تعلقات نے کس طرح تنظیم پر منفی اثرات مرتب کیے اور اس کی کارکردگی کو نقصان پہنچایا۔

ڈاکٹر این لیکوسکی ناروے کے دفاعی تحقیقی ادارے ایف ایف آئی میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں۔ ان کا تعلیمی پس منظر مشرقِ وسطیٰ کے مطالعات، عربی اور روسی زبانوں پر مشتمل ہے اور وہ 2006 سے عسکری اسلام پسندی پر تحقیق کر رہی ہیں۔

ان کی موجودہ تحقیق القاعدہ کی تاریخ، قیادت اور حکمتِ عملی، نیز افغانستان اور پاکستان میں جہادی تحریکوں پر مرکوز ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے طریقۂ کار، دہشت گردوں کے انٹرنیٹ کے استعمال اور کیمیائی، حیاتیاتی، شعاعی اور جوہری دہشت گردی کے موضوعات پر بھی تحقیق کی ہے۔

ڈاکٹر لیکوسکی نے یونیورسٹی آف اوسلو سے ایشیائی اور افریقی مطالعات میں ایم فل اور تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ انہوں نے 2012 میں اپنی ڈاکٹریٹ کا مقالہ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے باہمی تعلقات پر تحریر کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سوال پر کہ آپ کی کتاب سے حاصل ہونے والا ایک بڑا نکتہ کیا ہے؟ ایسی کون سی بات تھی جو لوگ ماضی میں القاعدہ کے بارے میں نہیں جانتے تھے یا جس پر زیادہ گفتگو نہیں کی گئی؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد کے عشرے میں القاعدہ بنیادی طور پر تبدیل ہو گئی تھی۔‘

ڈاکٹر این نے بتایا کہ القاعدہ نے دراصل امریکہ پر حملوں کو اپنی اولین ترجیح بنانے کے تصور کو ترک کر دیا تھا۔ ’یہ خیال ذاتی طور پر اسامہ بن لادن سے وابستہ تھا۔ لیکن 2001 کے بعد ہونے والی پیش رفت نے القاعدہ کو یہ دکھایا کہ مسلم دنیا میں بغاوتی تحریکوں کی حمایت پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ اہم اور زیادہ قابلِ عمل حکمتِ عملی ہے۔‘

ناروے کی مصنفہ ڈاکٹر این کا موقف تھا کہ 2011 میں اسامہ بن لادن کی موت کے وقت، القاعدہ اسی نتیجے پر پہنچ چکی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو ایک انقلابی پیش رو تنظیم (Vanguard Organization) سے تبدیل کرنا شروع کر دیا تھا اور وہ اپنے آپ کو اس چیز کا مرکز سمجھنے لگی تھی جسے وہ ’خلافت‘ کہتے تھے۔‘

کیا یہ خطرہ اب بھی موجود ہے؟ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ القاعدہ اب بھی ایک مؤثر خطرہ ہے؟ ڈاکٹر این لیکوسکی کا جواب تھا: ’میرا خیال ہے کہ وہ تنظیم جسے ہم روایتی طور پر القاعدہ کے نام سے جانتے ہیں، یعنی وہ تنظیم جس کی قیادت اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر رہنما کرتے تھے، وہ کم و بیش ختم ہو چکی ہے، لیکن آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو القاعدہ سے متاثر ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ القاعدہ کے اپنے منفرد نظریات بہت کم تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ القاعدہ نے اپنے نظریات مختلف بڑے فکری اور نظریاتی دھاروں سے مستعار لیے تھے، جن میں بیسویں صدی کے دوران موجود مختلف عسکری اسلام پسند تحریکیں بھی شامل تھیں۔ ’اس لیے وہ نظریات آج بھی کافی حد تک مؤثر اور متعلقہ ہیں۔‘

تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر این کا کہنا تھا کہ تنظیم اس حد تک کمزور ہوچکی ہے کہ اپنا نیا سربراہ بھی باضابطہ طور پر مقرر نہیں کرسکی ہے۔ اس کی ایک وجہ انہوں نے شوریٰ کی غیرموجودگی بتائی۔

عسکری اور دیگر امور پر تحقیق کرنے والے پاکستانی تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز نے کتاب کی رونمائی کی تقریب کی میزبانی کی۔ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ عامر رانا کا کہنا تھا کہ یہ کتاب کئی سوالات کے جواب سامنے لائی ہے اور ایک اچھے وقت میں لکھی گئی ہے۔

تقریب کے اختتام پر سیشن کی صدارت کرنے والے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے سابق کوآرڈینیٹر احسان غنی کا کہنا تھا کہ یہ کتاب پاکستان کے بیانیے کی حمایت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کو اندرونی ناکامیوں نے زیادہ مارا نا کہ امریکہ نے۔ ’یہ تنظیم اپنے ہی بوجھ کے نیچے دب گئی۔‘

ان کا اصرار تھا کہ کتاب یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ القاعدہ کو پاکستان سپورٹ نہیں کر رہا تھا۔ ’القاعدہ کسی پر بھی اعتبار نہیں کرتی تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مصنفہ نے اس موضوع پر کتاب لکھ کر تحقیق کرنے والوں کی بہت مدد کی ہے۔

ان کی حالیہ اہم تصانیف میں ’خلافت‘ کے بعد جہادیت: ایک نئی درجہ بندی کی جانب (British Journal of Middle Eastern Studies، 2018)، القاعدہ اِن افغانستان (کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2017)، اور ’قیام کے تیس سال بعد القاعدہ کس سمت جا رہی ہے؟‘ (Perspectives on Terrorism، 2017) شامل ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *