شہزاد بھٹی کون ہے؟ انڈیا کی گروپ کے خلاف کارروائی پر پاکستان کا سخت ردعمل

انڈیا نے پاکستان میں موجود مبینہ گینگسٹر اور ’دہشت گردی‘ کے مبینہ ہینڈلر شہزاد بھٹی سے منسلک ایک نیٹ ورک کے خلاف ملک گیر کارروائی کا دعویٰ کیا ہے، جسے پاکستان نے مسترد کیا ہے۔

انڈین حکام کے مطابق 14 ریاستوں میں 253 افراد کو حراست میں لیا گیا، 200 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں اور 80 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے۔

نئی دہلی ان کارروائیوں کو ممکنہ تخریبی اور ’دہشت گردانہ‘ سرگرمیوں کے خلاف بڑی کارروائی قرار دے رہا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس نیٹ ورک کے پاکستان میں موجود عناصر کو انڈین نوجوانوں کی مبینہ بھرتی، جاسوسی اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ نئی دہلی اپنی داخلی سکیورٹی اور سیاسی مشکلات کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے اور عوام کی توجہ اندرونی معاملات سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں شہزاد بھٹی کا ذکر کیے بغیر کہا کہ انڈیا کی جانب سے گرفتاریوں کو پاکستان سے جوڑنے کے لیے پیش کیے جانے والے دعوے قابلِ اعتماد شواہد کے بغیر قبول نہیں کیے جا سکتے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے پیر کی شب ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان انڈیا کے وزیرِ داخلہ کی جانب سے بعض گرفتاریوں کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش پر مبنی الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ اس نوعیت کا ’پروپیگنڈا‘ پاکستان کے خلاف انڈیا کی بدنیتی پر مبنی مہم کا ایک اور مظہر ہے، جس کا مقصد اپنے اندرونی سکیورٹی چیلنجز سے توجہ ہٹانا اور محدود داخلی سیاسی مفادات کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا ہے۔

’اندرون ملک، انڈیا ایک جابرانہ ریاست ہے جو اپنی اقلیتوں پر سخت مظالم ڈھا رہی ہے اور اختلافِ رائے کو دبا رہی ہے۔ بیرونی سطح پر، انڈیا دہشت گردی برآمد کر رہا ہے اور دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ انڈیا کے بے بنیاد الزامات عالمی برادری کی توجہ انڈیا کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی ’دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور غیر ملکی سرزمین پر تخریبی سرگرمیوں سے نہیں ہٹا سکتے۔‘

طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان متعدد بار دہشت گردی اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوں میں انڈیا کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کر چکا ہے۔ ’سزا یافتہ اور زیرِ حراست انڈین بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادیو پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی میں انڈیا کے براہِ راست ملوث ہونے کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔‘

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرے اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے لیے انڈیا کو جوابدہ ٹھہرائے۔

انڈیا کا کیا دعویٰ ہے؟

 انڈین وزارتِ داخلہ کے مطابق یومِ آزادی سے قبل ممکنہ ’دہشت گردانہ‘ اور تخریبی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مختلف ریاستوں میں مربوط کارروائیاں کی گئیں۔

انڈین وزیر داخلہ امیت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دعویٰ کیا کہ حکومت نے ’آئی ایس آئی کی مبینہ پشت پناہی رکھنے والے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا اور 200 سے زائد مبینہ آپریٹو گرفتار کرکے ممکنہ حملوں کے منصوبے ناکام بنا دیے۔‘

انڈین حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 80 سے زائد مقدمات درج کیے گئے اور گرفتاریاں یو اے پی اے، انڈین نیایا سنہتا، آرمز ایکٹ، این ڈی پی ایس ایکٹ اور ایکسپلوسِو سبسٹینسز ایکٹ سمیت مختلف قوانین کے تحت کی گئیں۔

 انڈین دعوے کے مطابق کارروائیوں میں آئی ای ڈیز، پستول، کارتوس، دستی بم اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھی برآمد ہوئے۔

نئی دہلی کا مزید کہنا ہے کہ ’بعض دستی بموں پر پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات موجود تھے‘، جسے انڈین حکام مبینہ سرحد پار روابط کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔

 یہ تمام دعوے فی الحال انڈین حکام کا مؤقف ہیں اور ان الزامات کا حتمی تعین متعلقہ قانونی اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ہوگا۔

 شہزاد بھٹی کون ہے؟

انڈین سکیورٹی اداروں کے مطابق شہزاد بھٹی پاکستان میں موجود ایک مبینہ گینگسٹر ہے جو بعد ازاں ’دہشت گردی‘ کے مبینہ ہینڈلر کے طور پر سامنے آیا۔

انڈین حکام کا الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور انکرپٹڈ کمیونیکیشن پلیٹ فارمز کے ذریعے انڈین نوجوانوں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کرتا اور انہیں مبینہ طور پر جرائم، جاسوسی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا رہا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈین تحقیقاتی ادارے شہزاد بھٹی کا نام شمالی انڈیا میں ہونے والے متعدد حملوں سے جوڑتے ہیں، جن میں جالندھر سے تعلق رکھنے والے یوٹیوبر راجر سندھو کی رہائش گاہ پر مبینہ گرینیڈ حملہ، امبالہ کے بالدیونگر پولیس سٹیشن کے قریب آئی ای ڈی کار بم دھماکہ اور ہماچل پردیش کے نالہ گڑھ میں پولیس سٹیشن پر مبینہ گرینیڈ حملہ شامل ہے۔

بھٹی کا پس منظر کیا ہے؟

انڈین میڈیا پر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق شہزاد بھٹی کی عمر تقریباً 45 سال ہے اور وہ خود کو کاروباری شخصیت، سوشل میڈیا انفلوئنسر اور مذہبی امور پر تبصرہ کرنے والے شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

وہ آن لائن دنیا میں اپنے ’333‘ نامی گروپ یا برانڈ کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں اور مذہب، انفلوئنسرز کے تنازعات اور پاکستان انڈیا تعلقات جیسے موضوعات پر مواد شیئر کرتے رہے ہیں۔

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق بھٹی پہلی مرتبہ 2013 میں پاکستانی پولیس کی توجہ میں آئے۔ ان کے خلاف چوری اور ڈکیتی سمیت مختلف مقدمات کا ذکر کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا شہرت اور لارنس بشنوئی سے تعلق

 2018 کے بعد ٹک ٹاک کے ذریعے بھٹی کی سوشل میڈیا مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے انڈین جیل میں قید گینگسٹر لارنس بشنوئی سے دوستی کا دعویٰ بھی عوامی طور پر کیا۔

بعد ازاں انڈین تفتیش کاروں نے بھٹی کے روابط ذیشان اختر سے جوڑنے کا دعویٰ کیا، جسے بشنوئی کا مبینہ ساتھی قرار دیا جاتا ہے اور جس پر 2024 میں مہاراشٹر کے سابق وزیر بابا صدیقی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

بھٹی نے تاہم عوامی سطح پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

انڈین تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟

مارچ 2024 میں جالندھر میں انفلوئنسر راجر سندھو کی رہائش گاہ کے قریب مبینہ گرینیڈ حملے کے بعد انڈین اداروں نے بھٹی سے منسلک مبینہ نیٹ ورک کی تحقیقات تیز کرنے کا دعویٰ کیا۔

انڈین تحقیقاتی اداروں کے مطابق مختلف ریاستوں میں متعدد ایف آئی آرز اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی سے منسلک تحقیقات میں بھٹی کا نام سامنے آیا۔

انڈین حکام کا الزام ہے کہ نیٹ ورک مذہبی، شہری اور فوجی تنصیبات کو ممکنہ حملوں کے لیے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔

مبینہ بھرتی کا طریقہ کار

انڈین تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ ہے کہ مبینہ نیٹ ورک سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے نوجوانوں کی نشاندہی کرتا تھا جو مایوسی، بے چینی یا دیگر مشکلات کا شکار ہوں۔

حکام کے مطابق ابتدا میں آن لائن رابطوں، مراعات اور نسبتاً معمولی کاموں کے ذریعے نوجوانوں کو قریب لایا جاتا، جس کے بعد انہیں مبینہ طور پر زیادہ سنگین سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا۔

تاہم پولیس کے مطابق اس مبینہ بھرتی کے طریقہ کار اور نیٹ ورک کے اصل ڈھانچے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

پاکستان کا جواب کیا ہے؟

اسلام آباد نے انڈیا کے الزامات کو واضح اور سخت الفاظ میں مسترد کیا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ انڈیا کے الزامات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسے دعوے عالمی توجہ کو انڈیا کی جانب سے مبینہ ریاستی سرپرستی میں ’دہشت گردی‘، بیرونِ ملک ٹارگٹ کلنگ اور دیگر مبینہ تخریبی سرگرمیوں سے نہیں ہٹا سکتے۔

پاکستان نے ماضی میں بھی انڈیا پر پاکستان میں ’دہشت گردی‘ اور عدم استحکام کی سرگرمیوں میں مبینہ مداخلت کے الزامات عائد کیے ہیں اور اس ضمن میں انڈین بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کے معاملے کو اپنی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *